AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے Quotes

Rate this book
Clear rating
AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے by KRISHAN CHANDAR
5 ratings, 4.20 average rating, 3 reviews
AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے Quotes Showing 1-4 of 4
“ملن کی رات آئی تھی۔ مگر کسی کے لئے کتنی مہیب اور خوفناک ، ڈر اور وحشت سے معمور ، اور کسی کیلئے کیسی چمک دار اور درخشندہ کائنات کی ساری خوشبوؤں سے بھر پور ایک ہی رات تھی۔ مگر دونوں کیلئے کتنی مختلف تھی ۔ لایی اطمینان کی ٹھنڈی سانس بھر کر گل کے سینے سے لگ کر سوگئی تھی۔ اور گل سوچ رہا تھا، یہ ایک رات میں دو راتیں کیسے ممکن ہیں ؟ ایک رات تاریک اور سیاہ ، گہری اور اتھاہ بدہیئت اور بدبو دار ، غلاظت اور نجاست سے معمور، اور دوسری رات ستھرے ستھرے جذبات والی ، معصوم اور پاکیزہ رات، جب کہکشاں مسکراتی ہے۔ اور چاندنی سیل رواں بن کر بہتی ہے اور افق سے افق تک کسی کے ذہن میں ستاروں کے پھول کھل جاتے ہیں۔ اور محبت کی آغوش وا ہو جاتی ہے ۔ اور کوئی اطمینان کی گہری ٹھنڈی سانس لے کر اپنے آپ کو کسی کے سپرد کر دیتا ہے ۔ ہاں ایک رات اور دوسری رات میں اتناہی فرق ہے، جتنا نیکی اور بدی میں ......”
KRISHAN CHANDAR, AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے
“روح کی بات روح مجھ لیتی ہے لیکن کوئی روح دوسری روح میں اتنی ڈوب نہیں سکتی کہ اس کے علم کو اپنا غم بنائے ہائے کتنی بڑھ تنہائی ہے !”
KRISHAN CHANDAR, AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے
“کاش میرے لئے بھی کوئی تھک جائے ، چور ہو جائے . اس قدر مجبور ہو جائے کہ اگر اس کی جیب میں ایک پیسہ بھی نہ ہو تو چلتے چلتے کسی بھاڑی سے ایک پھول ہی توڑ کر میرے لئے لے آئے ۔”
KRISHAN CHANDAR, AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے
“اس دنیا میں بڑی مشکل ہے لیکن خانہ بدوشوں کیلئے تو یہاں اور بھی مشکل ہے ۔ کھیتوں میں اُگے ہوئے پودوں کی طرح جو لوگ ایک ہی شہر یا گاؤں میں رہتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں خوشی کی ہوا میں ایک ساتھ لہلہا کو سرسراتے ہیں گیت گاتے ہیں اور اونچے ہو جاتے ہیں ۔ بھوک کے پالے میں ایک ساتھ ٹھٹھرتے ہیں اور بیماری کی وبا میں ایک ساتھ گھر کر کٹ جاتے ہیں۔ لیکن خانہ بدوشوں کیلئے ہر جگہ مشکل ہے ۔ وہ ہر کھیت کے کنارے اجنبی ہیں اور سر گاؤں کی مد میں انجانے شہر کی گلی کا ہر سوڈان کیلئے ایک نیا خطرہ ہے اور ہر چوراہے کا ہر سنتری انھیں ہر وقت بے دخل کر سکتا ہے۔ وہ ہر جگہ اکیلے ہیں۔ یہ لوگ جو کسی قوم کسی مذہب کسی رنگ اور کسی ملک کے نہیں ہیں ۔ یا شاید یہ سب کے ہیں اس لئے کسی کے نہیں ہیں ان کے رنگ میں سب کا رنگ ہے۔ ان کے خون میں سب کا خون ہے اور ان کی زبان میں سب کچھ زبانیں ہیں۔ یہ لوگ جو اپنا خیمہ اپنی چٹائی، گھاس کے چند تنکے لئے گھومتے ہیں کسی آشیانے کی تلاش میں ہیں ؟ اپنی اس کاہش کا انجام انھیں خود معلوم نہیں”
KRISHAN CHANDAR, AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے