Pakistani Readers discussion
(Urdu Literature) اردو ادب
>
عمیرہ احمد یا نمرہ احمد
date
newest »
newest »
Agar in ko na parha jaye to kin writers ko parha jaye?mirza athar ulha beg
shamsur rahman faruqi
Mustanser Hussain tarar
Yeah, its quite right. But what we have to do is actually, ' to make sure that we are only reading stories, that are related to fantasy'. Don't imagine it to be real, bro. Its only a story.But you can't deny the fact that they actually have alot of influence, especially on girls. What if they gained hidayat by reading them? Would not that be good? It will be. We need to learn to see all aspects, not only judging them by single look.
Fakiha wrote: "I totally agree with this...sometimes I also thought about this...."
kuch esa he hai.....
Inshal wrote: "Yeah, its quite right. But what we have to do is actually, ' to make sure that we are only reading stories, that are related to fantasy'. Don't imagine it to be real, bro. Its only a story.But yo..."
fantasy? or illusion?
what kind of hidya you are talking about? its crippling the minds dear.
محترمہ عمیرہ احمد کی مخالفت میں ۔۔۔۔۔۔امجد جاوید
محترمہ عمیرہ احمد کی مخالفت میں ۔۔۔۔۔۔ ایک تحریر نگاہوں سے گزری ۔کوئی کبیر علی نام کے صاحب ہیں ۔ میں نے ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کی لیکن مجھے ان کے بارے معلوم نہیں ہوسکا ۔ اس لئے کچھ لکھنے میں تاخیر ہوئی ۔اگر انہوں نے محترمہ عمیرہ احمد اور محترمہ نمرہ احمد کے خلاف لکھا ہے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ۔میں آزادی رائے کے حق میں ہوں ۔ہر فن پارے پر چاہے وہ کیسا بھی ہو ، اس پر تعریف و تنقید کی جا سکتی ہے ۔کیونکہ وہ عوام کے سامنے پیش ہی اسی لئے کیا جاتا ہے ۔ عوام اسے قبول کرے ، نہ کر ے ، تعریف کرے یا تنقید، وہ عوام کا حق ہے ۔ لیکن یہ انتہائی افسوس ناک رویہ ہے کہ اس فن پارے کے خالق کی تحقیر کریں ۔فن پارہ پبلک پراپرٹی مانا جا سکتا ہے لیکن فن پارے کے خالق کی ذات یا شخصیت نہیں۔
محترمہ عمیرہ احمد کی مخالفت میں ۔۔۔۔۔۔مجھے بلاگر کی زبان پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔کیونکہ جب کو ئی بولتا ہے تو دراصل وہ اپنا اندر آپ کے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے ۔اس کی تربیت اور ذہنیت کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔بلا گر کی زبان ہی سے اندازہ ہو گیا کہ وہ نہ تو علمی پس منظر رکھتا ہے اور وہ کوئی اعلی ظرف کا مالک ہے ۔ انہوں نے یہ کہا کہ انہوں نے بہت پڑھا، اردو کے بارے میں اپنی علمیت کو ثابت کرنے کے لئے کچھ اصطلاحات کا بھی سہارا لیا لیکن تیسرے درجے کی زبان استعمال کر کے انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ گدھے پر کتابیں لاد دینے سے گدھا عالم فاضل نہیں بن جاتا۔
انہوں نے محترمہ عمیرہ احمد اور محترمہ نمرہ احمد کو تیسرے درجے کی نثر نگار کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ کیونکہ یہ ثابت کرنے کا ، فرمان جاری کرنے کا ، یا فیصلہ دینے کا اختیار انہیں بالکل نہیں ہے ۔ یہ فیصلہ وقت کرتا ہے ۔کون سی تحریر زندہ رہتی ہے ، کلاسک کا درجہ پاتی ہے یا نہیں پا سکتی ، یہ کوئی فرد واحد کا وہ دور بھی فیصلہ نہیں دے سکتا۔ ان دونوں محترم خواتین کے بارے میں اس وقت کے حالات اور واقعات کیا ثابت کر رہے ہیں ، یہ سارا زمانہ جانتا ہے ۔ اگر کوئی دیوانہ ایسی بڑ ہانک دے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔
بلاگر نے کلاسیک ، کلاسیک کا بہت ذکر کیا۔ ایک سوال ہے کیا موٹے موٹی فارسی عربی لفظ لکھنا ہی کلاسک ہے ؟ یا خوب فلسفیاتی باتیں لکھنا، یا کیا ایسا ہے جو کلاسیک ہے ؟قبول عام ہو نا بھی کوئی جواز نہیں۔ ایسی بہت ساری کتب اور تحریریں ہیں جو بہت پاپولر ہوئیں لیکن وقت کے ساتھ ختم ہو گئیں۔ پاپولر فکشن ، کلاسیک وغیرہ کی بحث مجھے نہیں آتی ۔ میرا اپنا خیال اور نظریہ ہے ۔اور وہ یہ کہ زندہ تحریر کسے کہتے ہیں؟میرے نزدیک ( اگرچہ اس سے اتفاق یا اختلاف کا پورا پورا حق ہے ) ایسی تحریر جسے پڑھ کر نئے خیالات ذہن میں ابھریں اور جو کسی بھی نئی سوچ کا محرک بن جائے ، وہ زندہ تحریر ہے ۔خیر مجھے ان کی ان باتوں پر کوئی اعتراض نہیں ۔
محترمہ عمیرہ احمد کی مخالفت میں ۔۔۔۔۔۔بلاگر کی اس علمیت کے بارے میں بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں کہ وہ اردو زبان کے بارے میں کیا جانتے ہیں ۔زبان کی چاشنی موسیقیت وغیرہ کے بارے میں انہوں کہا۔ خیر، میں تو یہ جانتا ہوںاردو زبان رو بہ ترقی ہے ۔ کیا وہ ”سب رس“ اب پڑھ سکتے ہیں؟ ” سب رس “سے لے کر آج تک ایک سلسلہ ہے اردو زبان کا ۔اس میں نت نئے تجربے ہوتے چلے گئے اور ہوتے چلے جائیں گے ۔ اگر ہم چاہیں بھی تو جدید دور میں ڈپٹی نذیر احمد کی زبان ، بیان کے لئے استعمال نہیں کر سکتے ۔ کیا ہم امراﺅ جان ادا کی زبان کر برت سکتے ہیں ۔زبان کا اصل مقصد کیا ہے ؟وقت گزرنے کے ساتھ ابلاغ کی ضرورت اور اہمیت بڑھی جس سے زبان اور بیان میں تبدیلی آ نا فطری بات ہے ۔ خیر بات بہت طویل ہو جائے گی ۔ محترمہ عمیرہ احمد کی مخالفت میں ۔۔۔۔۔۔جو زبان کی بات کی گئی ہے اس سے حسد اورعناد کی ناخوشگوار بو کے احساس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے ۔
محترمہ عمیرہ احمد کی مخالفت میں ۔۔۔۔۔ لکھتے ہوئے بلاگر نے بڑے ہی عامیانہ اور نچلی سطع پر جا کر ”ڈائجسٹ مارکہ “ کی اصطلاع کا ذکر کیا۔مجھے لگا کہ یہ ان کی انتہائی لا علمی ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈائجسٹ کی شائع تحریر کو ادب نہ ماننا ادبی غنڈہ گردی ہے ۔” جانگلوس “ ڈائجسٹ میں شائع ہوا ۔ آج یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے ۔ کوئی مانے یا نہ مانے اردو پر اگر احسان ہے تو ڈائجسٹ کا ہے جس نے سب سے زیادہ اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں حصہ لیا۔آج انہیں ڈائجسٹوں کے مقابلے میں کتنے ادبی پر چے ہیں ؟ چند کے علاوہ کیا معیار ہے ان کا ؟بلاگر کو شاید یہ علم نہیں ہے ۔
محترمہ عمیرہ احمد کی مخالفت میں ۔۔۔۔۔۔ میں لکھتے ہوئے بلاگر نے لکھا کہ اردو ادب کی روایات سے واقفیت کی مذہب اور تصوف کاکا تڑکا لگایا۔ موصوف سے یہ سوال ہے کہ کیا معاشرے سے الگ ہو کر لکھا جا سکتا ہے ؟ ٓپ کس معاشرے کی بات کر رہے ہیں ۔ کیا ہمارے معاشرے میں لڑکیاں دعا نہیں مانگتی ؟کیا ہمارا معاشرہ مذہب اور تصوف سے ہٹ کر ہے ؟بلاگرکے ہاں مذہب اور تصوف کا کیا رجحان ااور تاثر ہے ، میں اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن موصوف نے وضو کرتے پنڈلیوں پر نگاہ پڑنے کی بات کی ؟ یہ تناطر سے ہٹ کر کی گئی بات ہے جو بذات خود یہ ثابت کر رہی ہے کہ بلاگر کی ذہنیت کیا ہے ۔
اور بہت ساری باتیں ہیں ، تاہم طوالت کے خوف سے یہیں ختم کر تے ہوئے اصل مدعا کی طرف آتا ہوں ۔ مجھے اعتراض ہے تو ان کی مندرجہ ذیل سطروں پر ۔۔۔۔۔۔۔
”یہ دونوں خواتین بھی اگرچہ ڈائجسٹ مارکہ قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے ایک اہم اضافہ یہ کیا کہ اپنے ناولوں اور افسانوں میں مذہب اور تصوف کا تڑکا لگانا شروع کر دیاتاہم اردو کے افسانوی ادب میںیہ پہلی بار نہیںہوااس سے قبل اشفاق احمد ، بانو قدسیہ اور ممتاز مفتی وغیرہ نے یہ کام کیاان لوگوں کے کچے پکے متصوفانہ خیالات سے مجھے اتفاق نہیںمگر وہ لوگ بہرحال زندگی کا تجربہ رکھتے تھے اور ان کی تحریروں میں ادبیت پائی جاتی ہے ان لوگوں کے شروع کئے ہوئے بابوں کے باب کا نتیجہ اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں میں عشق کے عین، شین قاف قسم کے ناولوں کی شکل میں نکلااور کئی لکھنے والوں نے بغیر کسی علم اور روحانی تجربے کے متصوفانہ مضامین بیان کرنا شروع کر دئیے اور تصوف کے ساتھ وہی سلوک کیاجو اس سے قبل تاریخ کے ساتھ نسیم حجازی اور عنائت اللہ کر چکے ہیں ۔متصوفانہ خیالات بیان کرنے کا یہی سلسلہ عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کے ہاں پایا جاتا ہے مگر بد قسمتی سے اس میں اتنی بھی جان نہیں جتنی کہ اس سلسلہ کے متقدمین کی تحریروں میں پائی جاتی ہے ۔“
یہ سطریں بذات خود ان کے ذہنی خلفشار کی عکاسی کر رہی ہیں۔ ایک ہی سانس میں موصوف نے سب کو رگید کر رکھ دیا۔ انہی سطروں میں سارے سوال موجود ہیں ۔
عین ، شین قاف ۔۔۔۔۔ اس قدر اہمیت رکھتی ہیں کہ ان کا ذکر انہیں کرنا پڑا۔ مجھے نہ صرف ان کے اس طرح ذکر پر اعتراض ہے بلکہ شدید تحفظ بھی ۔ یہاں وضاحت کر دوں کہ عشق کا عین محترم علیم الحق حقی نے ۔ عشق کا شین محترم علیم الحق حقی اور راقم (امجد جاوید) نے اور عشق کا قاف محترم سرفراز احمد راہی اور راقم (امجد جاوید ) ہی نے لکھا۔ اگر کوئی اور بھی لکھنا چاہئے تو یہ میدان کھلا ہے ۔اور بہت سارے ادباءنے لکھا بھی ہے ۔ عشق کا قاف (امجد جاوید ) پر اے ٹی وی سے ایک سیریل بھی بن کر آن ائیر ہو چکا ہے ۔جو آج بھی عوام پسند کرتے ہیں ۔
محترم علیم الحق حقی اورمحترم سرفراز احمد راہی رب تعالی کو پیارے ہو چکے ہیں ۔سو میرا بلاگر سے سوال کر نا بنتا ہے ۔میرا بلاگر سے ایک ہی سوال ہے ۔اور میں ان سے مزید سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں ۔ وہ سوال یہ ہے کہ کیا بلاگر علم اور روحانی تجربے کے اس معیار پر ہیں کہ عین شین اور قاف پر انگلی اٹھا سکیں ؟ منتظر
Listen Pal, Writing isn't "Khala Jee Ka Ghar". You have to understand that, If It was such easy then we were all writers. So give them some credit they wrote something.I didn't like Jannat Kay Pattay and Ishq Ka Ain as well but the point i want to make is that this is not hecking Europe or " 'Amreeka', The Land of opportunity".
Writers have to start with humble background because publishing your own book isn't walk in the park still if you got something in it worth a try.
Writers try their luck in magazines and these digests because these are good platforms for them.
Why can not a resident of "Illiterate Atomic Power" understand that every consumer cant buy books courtesy our kind and "cheap" publishers e.g. Sang e Meel. But it doesn't mean that they don't want to. So they are inclined to these affordable magazines so they cant satisfy their literary hunger.
You will never understand dilemma of a pocket-less roughneck or pupil that how bad it feels when you cant justify your earning or pocket money for books.
I hope i clarified this all.
Not a lot of people know that digests were not like these as the situation they are in right now. These Digests for female readers lack quality subjects but they aren't total trash.
Being an avid and addicted crime fiction reader i started reading these cheap crime magazines in my teenage but on those times they had quality. Stories of writers like James Hedley Chase had been included frequently.
Senior readers hopefully remember a name which is "Subrang Digest". I can bet that nobody, I am saying nobody ever researched more than Shakeel Aadil Zada in World Literature to translate foreign literature into Urdu.
Eventually lack of funding was the reason that we lost one of best best best literary magazine of Pakistan.
What is "Adabiyat" ? I hope senior readers know that what was the public response to all the books which are conspired "Addabi" today. For example Udas Naslain was despised when it was at first published.
The point I want to make that time sets the decree of classicness of a book. All the classics were just normal books back then.
So give those some room and you will see that how its literary status will rise.
P.S. Ishq Ka Qaf by Sarfaraz Rahi is way better than previous novels in the trilogy.
صحیح کہا۔دراصل مسئلہ مذہب کا ہے۔ چڑ انہیں مذہب سے ہے، نکلتی وہ بہانوں بہانوں سے باہر ہے۔
انہیں عمیرہ و نمرہ کے چہرے سے وضو کے ٹپکتے قطروں پر تو اعتراض ہوتا ہے کہ یہ فضول منظر نگاری ہے مگر ساحلِ سمندر سے بیکنی پہنی نچڑتی حسینہ جیسی منظر نگاری پر بالکل نہیں ہوگا۔ ۔ ۔ وہ تو "آرٹ" ہوا نا۔ آزادی اظہار ہوا۔ ادھر عمیرہ کی دفعہ آزادی اظہار نہیں یاد آتا۔
سیدھے کہہ دیں کہ ہمیں نہیں پسند آیا، بات ختم۔ اسے صحیح غلط کی بحث بنا کے اپنا بغضِ مذہب کیا نکالنا۔ ہمت ان میں اتنی نہیں ہوتی کہ سامنے آ کر انکار مذہب کریں۔ بس منافقانہ چال چلن ہے۔
Salman wrote: "صحیح کہا۔دراصل مسئلہ مذہب کا ہے۔ چڑ انہیں مذہب سے ہے، نکلتی وہ بہانوں بہانوں سے باہر ہے۔
انہیں عمیرہ و نمرہ کے چہرے سے وضو کے ٹپکتے قطروں پر تو اعتراض ہوتا ہے کہ یہ فضول منظر نگاری ہے مگر ساحلِ سم..."
when , we like a girl we just do, it was nothing to do with religion, cast creed or name. It should be presented as it is....
jeesi tashreeh apny tashriti hasena ki keh hai,, pae adab k writers b ese nahi karty,,, mubarak ho ap hum ho gye
Rural Soul wrote: "Listen Pal, Writing isn't "Khala Jee Ka Ghar". You have to understand that, If It was such easy then we were all writers. So give them some credit they wrote something.I didn't like Jannat Kay Pa..."
off course you are right , these digest has played immense role in conserving the art of read, at least people read thats the credit i wanna give to this type of writing...
you have put strong points, all of which i am unaware.... i respect your opinion immensely
Salman wrote: "محترمہ عمیرہ احمد کی مخالفت میں ۔۔۔۔۔۔امجد جاوید
محترمہ عمیرہ احمد کی مخالفت میں ۔۔۔۔۔۔ ایک تحریر نگاہوں سے گزری ۔کوئی کبیر علی نام کے صاحب ہیں ۔ میں نے ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کی لیکن مجھے ا..."
حالیہ ادب دو حصوں میں بٹ چکا ہے، ایک ہر چیز مذییب کے آٰینے میں دیکھ رہا اور
دوسرادب یے جو انسانی رویوں کو مذیب کی عینک اتار کے دیکھتا ہے دونوں کے پاس اہنے دلائل ہیں۔۔۔ معاشرے کی ناگفتہ بہ حالت کا عکاس کون ہے؟ یہ فیصلہ قاری پر چھوڑدیں۔۔۔ آگر وہ اپنے خوابوں میں جینا چاہتا ہے یا جقیقت مٰیں؟
ہم کتنے مذیبی اور تصوف زدہ ہے اس کا اندازہ ہمارے بحثت قوم کے کردار سے لگا
لیں پھر تسلی نہ ہو تو انڈ س کا مطالعہ کر لیں
جو ادب آپ کے خمیر میں مردار پیدا کردے؟ آپ کی سوچ کو اپاہج کردے ؟ اس کے بارے میں آپ کو کیا خیال ہے
Salman wrote: "اور اس زوال سب کا ذمہ دار مذہب ہے؟ اور عمیرہ احمد جیسے رائٹرز کا لکھا لٹریچر؟ ہے نا؟"halat apky samny hain.....umer ahmed to kuch b nahi bechari
منٹو اور عصمت چغتایٔ کو بانس پر چڑھانے والے کس منہ سے مذہب کے موضوع پر اعتراض کرتے ہیں ؟ اگر وہ موضوع ہے تو یہ بھی موضوع ہے۔
بس جناب چونکہ یہ اندازِ فکر آیا ہے ہمارے علمی آقاؤں سے، یعنی اعلا و ارفع مغرب سے، تو ہم بے چارے ذہنی افلاس کے مارے، کیسے اس کو رد کر سکتے ہیں۔ نادان سجدے میں گر گئے جب وقت قیام آیا۔
The problem most of the people have with these books is actually the intervention of islam. Thats all. Thats all what make these books and these writers good and bad for them. But what they don't understand is that tge intervention of islam is not a sin! Its actually the part of each of our lives,or ~it should be the part of our lives at every step~.
Inshal wrote: "The problem most of the people have with these books is actually the intervention of islam. Thats all. Thats all what make these books and these writers good and bad for them. But what they don't u..."the kind of islam we are left with are just rituals , without any practical implementation. Having said that , there problem is depiction of real face of chaotic society.
Even if you dont agree with rotten image of our malign society , strong psychological impacts of these vague ideas are confusing people more........
For the sake of discussion lets for second I agree with with you, why literature is not effecting our lives , why society is becoming more intolerant, less human and driving away from the core religion.



متصوفانہ خیالات بیان کرنے کا یہی سلسلہ عمیرہ احمد ونمرہ احمد کے ہاں بھی پایا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے اس میں اتنی جان بھی نہیں جتنی کہ اس سلسلے کے متقدمین کی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔ دراصل جس زمانے میں یہ ناول لکھے گئے اس زمانے میں نوجوان نسل موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے صنفِ مخالف سے متعارف ہو رہی تھی، دوستیوں اور جسمانی تعلقات سے آشنا ہو رہی تھی۔
ظاہری بات ہے کہ ہمارے ہاں نکاح کے بغیر اس طرح کے تعلقات ممنوع ہیں اور نوجوان نسل ذہنی طور پہ پریشان تھی، ایسے حالات میں ہماری ان لکھاریوں نے آگے بڑھ کر اس پریشان کن صورتحال کو گلیمرائز کرنے کی کوشش کی۔ ممنوعہ تعلقات کو جھوٹی مذہبیت کے لفافے میں لپیٹ کے پیش کرنا شروع کیا تو نوجوان نسل (خصوصا صنف نازک) میں ان خواتین کے ناولو ں کی دھوم پڑ گئی۔ محبوب کی آغوش میں آنے سے قبل اگر ہیروئین نماز بھی پڑھ لے تو آخر اس میں کیا قباحت ہے۔
وضو کرتے ہوئے شفاف پانی کے قطرے رعبِ حسن سے محترمہ کے رخ پر ٹھہر تے ہیں تو ہیرو صاحب اس ملکوتی حسن کی گہرائیوں میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ یا پھر ہیرو صاحب ( جو اکثر کزن بھی ہوتے ہیں) اچانک سے دروازہ کھول کر بے دھیانی میں کمرے میں گھس آتے ہیں تو مصلے پہ بیٹھی ہیروئن کو اپنے کومل کومل ہاتھ اٹھائے دعا مانگتے دیکھ کر وہیں ڈھیر ہو جاتے ہیں اور “صوفیانہ عشق” فرمانے لگتے ہیں۔ عمیرہ احمد اس امر سے خوب واقف ہیں کہ کب ہیرو نے ہیروئن کو وضوکراتے ہوئے اس کی پنڈلیوں کا دیدار کرنا ہے اور کب مصلہ پکڑا نا ہے۔
یاد رہے کہ یہ سارا “صوفیانہ عشق” شادی سے پہلے ہو رہا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ بھلا شادی کے بعد بھی کوئی عشق ہوتا ہے، شادی کے بعد تو ناول ہی ختم ہو جاتا ہے۔ مذہبیت اور جھوٹے عشق کے ملغوبے سے تیارہ کردہ کئی نمونے میں نے پچھلے چھ سال کی یونیورسٹی کی زندگی میں ملاحظہ کیے ہیں۔
مثال کے طور پہ ایک محترمہ نے رمضان کا اعتکاف اس نیت سے کیا کہ شاید اپنے ہم جماعت کے ساتھ ممنوعہ جسمانی تعلقات بحال ہو جائیں جو چار سال تک جاری رہنے کے بعد ٹوٹ گئے تھے یعنی عرفِ عام میں بریک اپ ہو گیا تھا۔
نمرہ احمد نے “مصحف” میں قرآن مجید کو عملی طور پہ ایک ایسی کتاب میں بدل دیا ہے جس سے وقت پڑنے پر دیوانِ حافظؔ کی طرح فال نکالی جا سکے۔ عمیرہ احمد نے تو اور بھی جرات سے کام لیا کہ اس عاشقانہ (حسرت موہانی کی اصطلاح میں فاسقانہ) آنکھ مچولی میں قادیانیت اور اسلام ایسا نازک مسئلہ بھی لے آئیں۔
بس ایک مسئلہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس طرح کی نازک دل، سفید پوش گھرانوں کی لڑکیاں تو لاکھوں مل جائیں گی مگر بدقسمتی سے اس طرح کے امیر کبیر، خوبرو، دراز قد، اعلیٰ تعلیم یافتہ، بہترین نوکری/کاروبار کے حامل نوجوان کزن زیادہ تعداد میں نہیں پائے جاتے۔
پھر ایک بات اور بھی ہے کہ ناول کا ہیرو تو ہیروئن کے ملکوتی حسن سے متاثر ہو جاتا ہے مگر عام زندگی میں خوبصورتی اتنی ارزاں نہیں۔ زندگی کی حقیقت سے ان ناولوں کا کوئی تعلق نہیں، حتیٰ کہ جن ناولوں میں مڈل کلاس ماحول دکھایا جاتا ہے، وہ بھی حقیقت سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ اکثر اوقات ان ناولوں میں دکھایا گیا ماحول اتنا ہی غیر حقیقی ہوتا ہے جتنا سینکڑوں اقساط پہ مشتمل ہندوستانی ڈراموں کا ہوتا ہے۔ یہ ناول پڑھ پڑھ کے نوجوان لڑکیاں خوابوں کے آسمان پہ پہنچ جاتی ہیں اور وقت جب انہیں حقیقت کی سنگلاخ زمین پہ لا کر پٹختا ہے تو جذبات کے نازک آبگینے کرچی کرچی ہو جاتے ہیں
٭٭٭٭٭منقول