"ایک اچھے نظریے کے لیے بہت سے دوسرے نظریوں کا ہونا ضروری ہے ."
- لائنس پالنگ .
نامِ بیاض پراسرار , پرانی روایات انفرادی زاویے سے مرتب ہیں.تحریر بسیط, مصفا اور ادبی فراست سے لبریز. پڑھنے میں اجتماعی خودشناسائ کا احساس ہر سطر میں غالب رہتاہے. یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی کتاب ٹھری کہ میرا آدھا دن دیباچہ پڑھ کے کٹا تو باقی کا انتساب . دیباچہ زیرِ نظر آیا تو آہ نکلی , انتساب پڑھا تو واہ نکلی. باقی مضامین کے لیے تو بس دل لگی کا سا رشتہ بن گیا .
کبھی جی میں آتا کہ علی گڑھ کے یونین ہال میں جا بیٹھوں اور سروجنی کو سنوں تو کبھی حالی کی بے حالی پہ آنسوں بہاؤں . کوئ مسدس آنکھوں سامنے لکھی جائے, تو کوئ سیرۃ النبی لکھنے والا مل جائے.
کتاب کے دو مضامین یا حصے ہیں اور حاصل ان گنت.
۱. مینارِ پاکستان.
۲. قحط الرّجال.
پہلے میں اگر علؤمینار ہے تو دوسرے میں علؤ افکار. اردو ادب اور شاعری میں ہر مردِشناس نے مزاح کوپیش پیش رکھنے سے چنداں عار نہ کی. اوریہی شیوامختار مسعود صاحب کا بھی وقتاً فوقتاً رہا ہے البتہ دوسرا حصہ چونکہ نہ موقع بنا نہ ہی دستور تو گریز لازم ٹھرا.
کتاب کے دوسرے حصے میں مختار مسعود صاحب قدرشناسی سے ان لوگوں کی زندگیوں کا تجزیہ کرتے ہیں جن سے یہ ملے یا دیکھا اور آٹوگرافس لیے. ان میں کل ۱۳ شخصیات ہیں جن میں حالی, مولانا ظفر علی خان, عطاءاللہ شاہ بخاری , سروجنی نائیڈو, ٹائن بی ..... اور آخر میں قائد اعظم کے بارے میں تحریر ہے.
علی گڑھ بھی پوری کتاب میں نمایاں مقام رکھتا ہے . اور میرے خیال سے یہ کتاب کی شرطِ اول بھی ٹھری ہوگی کیونہ بغیر علیگڑھ اور اس کے طلباء ٰ پاکستان لاحاصل بن جاتا. علی گڑھ کا ادارہ جو "انفرادی ضرورت" اور "متحدہ خواہش" کے تحت قائم ہوا, تحریکِ پاکستان کا جزوِ لا ینفق ہے.
اردو کی بلا شبہ یہ ایک زندہ تحریری کاوش کے طور پہ ہمیشہ حلقہء ذوق شناس میں یاد رکھی جائے گی باوجہ اس کے کہ یہ کتاب جتنی ہی علمی ہے اتنی ہی ادبی.