Jump to ratings and reviews
Rate this book

Duniya Ki 100 Azeem Kitabain / دنیا کی سو عظیم کتابیں

Rate this book
ایشیا، یورپ، افریقہ سے تاریخِ انسانی میں لکھی گئی ان سو کتابوں کا مفصل تعارف جنہوں نے ذہنِ انسان پر کل بھی حکمرانی کی اور آج بھی جن کے اثرات فکرِ انسان پر نمایاں ہیں۔

831 pages, Hardcover

First published January 1, 1986

6 people are currently reading
36 people want to read

About the author

Sattar Tahir

21 books1 follower
ستار طاہر اُردو کے اہم محقق، مترجم ، مدیر ، صحافی اور ڈھائی سو سے زیادہ کتابوں کے مصنف، مؤلف اور مترجم تھے۔ ان میں سے سو کے قریب کتابیں بچوں کے لیے لکھیں۔ ستار طاہر یکم مئی 1940ء کو ضلع گورداس پور میں پیدا ہوئے۔ خاندان لائل پور منتقل ہوگیا تو بی اے تک تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ 1959ء میں صحافت کا آغاز کیا۔ ابن فتح، س ط اور ابو عدیل جیسے مختلف قلمی ناموں سے بھی لکھا۔ ماہنامہ کتاب، ماہنامہ معلومات، ویمن ڈائجسٹ، ہفت روزہ ممتاز، سیارہ ڈائجسٹ، حکایت، اُردو ڈائجسٹ، سپوتنک، قافلہ اور قومی ڈائجسٹ میں ادارتی ذمہ داریاں انجام دیں۔ سیاسیات، ادب، فنونِ لطیفہ، عمرانیات، فلم غرض ہر موضوع پر لکھا۔ ستار طاہر جمہوریت پر پختہ ایمان رکھتے تھے۔ضیاالحق کے مارشل لا کے زمانے میں جو کچھ انہوں نے لکھا، اس کی بہت کم لوگوں کو ہمت ہوئی۔ اس پر انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ پندرہ روزہ ’’قافلہ‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے انھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف کئی یادگار تحریریں لکھیں جو قافلہ کے خصوصی نمبروں کی صورت میں شائع ہوئیں۔ بعد ازاں یہ کتابی صورت میں بھی شائع ہوئیں۔ ان میں زندہ بھٹو مردہ بھٹو، سورج بکف و شب گزیدہ، اورمارشل لاء کا وائٹ پیپر خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ستار طاہر کو بعد از وفات صدرِ پاکستان نے صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے جمہوریت ایوارڈ دیا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے بچوں کے ادب میں کنٹری بیوشن کے اعتراف میں نشانِ اعزاز دیا۔ انھوں نے کئی فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں جن میں ’’وعدے کی زنجیر‘‘، ’’انسان اور گدھا‘‘ اور ’’میرا نام ہے محبّت‘‘ شامل ہیں۔ ستار طاہر کی قلم کی یہ مزدوری 1993ء میں عیدالفطر کے دن تک جاری رہی۔ جب آخری سانس لیا، اس دن مارچ کی 25 تاریخ تھی۔

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
3 (37%)
4 stars
3 (37%)
3 stars
1 (12%)
2 stars
1 (12%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 3 of 3 reviews
Profile Image for Salman Khalid.
106 reviews86 followers
April 22, 2021
اکثر دیکھتا رہتا تھا کہ بہت سے ریگولر ریڈر اچانک ہی گڈریڈز سے غائب ہوجاتے ہیں۔ کیا پتہ تھا کہ ایک دن یہی وقت مجھ پر بھی آن پڑنا تھا۔
خیر، اب جب کہ کتابوں کا ڈھیر لگ گیا ہے جن پر ’اس کو پڑھنے سے بہتوں کا بھلا ہوگا‘ قسم کی مبصرانہ رائے ہونی چاہیئے تو سوچا کہ چلو لاسٹ-اِن-فرسٹ-آؤٹ کا طریقہ اپناتے ہوئے شروعات اُس کتاب سے کی جائے جو حال ہی میں پڑھی ہے۔
شاید 17-2016 کی بات ہے، اس کتاب کی پی ڈی ایف کہیں سے ہاتھ لگ گئی تھی۔ تب سرسری نظر دوڑائی تو اندازہ ہوا کہ مالِ دیگر است، اس کو پڑھنے کے لیے پی ڈی ایف میں آنکھیں پھوڑنے کی ضرورت نہیں، کہیں سے ہارڈ کاپی کا بندوبست کرنا چاہیئے۔ ۔ ۔ مگر وہ کہاں ملنی تھی! 1985ء کے بعد سے کسی ناشر نے تو اس کتاب کو قابلِ اشاعت سمجھا ہی نہیں۔ کچھ ستار صاحب بھی +250 کتابیں لکھنے چھپوانے کے باوجود گمنامی میں جا بسے۔ رہے نام اللہ کا۔
اب 2021ء میں کہیں جا کر یہ پھر سے قارئین کو نصیب ہوئی ہے۔
پڑھنا شروع کی۔ ۔ ۔ اور بس پڑھتا ہی چلا گیا۔ کیا سہل اندازِ بیاں ہے ستار صاحب کا کہ بس لکھا کرے کوئی اور پڑھا کرے کوئی والا معاملہ تھا۔ جوں جوں پڑھتا گیا، ذہنی افلاس کا احساس شدت پکڑتا گیا۔ اب کیا بتاؤں کہ ان سو کتابوں میں سے بس اتنی ہی پڑھیں ہیں جو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر گنوں تو بھی کچھ انگلیاں بچ رہیں۔ لگا کہ اب تک جو پڑھا ہے، جھک ہی ماری ہے، اصل پڑھنے والی چیزیں تو یہ سب کتابیں تھیں۔ مگر دیر آید درست آید۔ ہمت مرداں تو مددِ خدا۔ اب نیت تو کر لی۔
میرے خیال میں اس کتاب کی تعریف کے لیے بس اتنی تمہید کافی ہے۔ قصہ مختصر، پڑھنے والے پہلے اسے پڑھیں اور پھر ہمت کے کندھوں پر سوار ہو جائیں اور باقی سو کتابوں کی پی ڈی ایف بھی کہیں سے تلاش کرکے پڑھیں، بانٹیں اور ثوابِ دارین پائیں۔
Profile Image for Muhammad Rizwan.
8 reviews
April 9, 2019
مصنف کی یہ ایک بہترین کاوش ہے کہ اس نے سو بہترین کتابوں کا تذکرہ ایک ہی جگہ جمع کر دیا۔ لیکن اس کتاب میں ایک کمی جو محسوس ھو رہی ہے وہ یہ ہے کہ مصنف کتاب کے بارے میں لکھتے لکھتے اس کتاب کے مصنف کی دوسری کتابوں کا بھی تذکرہ چھیڑ دیتا ہے جس سے ایسا محسوس ھوتا ہے کہ سبق کا عنوان مصنف کے نام سے ھونا چاہیے تھا نہ کہ مخصوص کتاب کے نام سے جب مخصوص کتاب کے نام سے عنوان ہے تو پھر اسی کتاب کی خصوصیات یا خامیوں تک محدود رہنا چاہیے تھا۔ بہرحال یہ ایک بہترین کتاب ہے اور سو کلاسکل کتابوں کا جاءزہ پیش کرتی ہے
Displaying 1 - 3 of 3 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.