Jump to ratings and reviews
Rate this book

Apna Qatil / اپنا قاتل: 100 بچوں کے قاتل کا نفسیاتی تجزیہ

Rate this book
Jawaid Iqbal Mugha, Murder of 100 Children, Judiciary, and the story of Police

219 pages, Hardcover

Published January 1, 2002

17 people want to read

About the author

K. Sohail

31 books5 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
0 (0%)
4 stars
1 (14%)
3 stars
6 (85%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 4 of 4 reviews
Profile Image for Rural Soul.
551 reviews89 followers
November 1, 2019
سہیل صاحب نے اس کتاب میں قاری کو یہ تو باور کرا دیا ہے کہ ملزم جاوید اقبال ایک ذہنی مریض تھا مگر یہ ایک الگ بحث ہے کہ وہ سائیکوپیتھ تھا یا سوشیوپیتھ. اس کے حالاتِ زندگی بتاتے ہیں کہ وہ پہلے بھی بچوں سے زیادتی کرتا رہا ہے. ایسے لوگ عموماً بچوں کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں اور اس کے لیے ایک بہترین آڑ بھی بنا لیتے ہیں. جاوید اقبال کا ایسے کئی کاروباروں سے منسلک ہونا جن سے بچے یا نو آموز نوجوان نتھی ہوتے ہیں، ایک لمحہء فکریہ ہے. اس نے تفصیلات کے مطابق ویڈیو گیم پوائنٹ، جِم، بچوں کے سامان کی ایک دوکان اور ایک اسکول بھی بنایا تھا۔
جاوید اقبال کی زندگی کا دوسرا مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ مندرجہ بالا تمام ایڈوینچروں کے بعد زخمی حالت میں ملتا ہے اور اسے شدید چوٹیں آئی ہیں. اس واقعے کو وہ "اپنا قتل ہونا" مانتا ہے. اس واقعے میں اس کا کہنا تھا کہ اس کو پولیس اور اس سے پہلے اپنے حملہ آوروں کی طرف سے اتنی چوٹیں آئیں کہ اس کے چہرے کی ہڈیاں اور ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی. اس واقعے کو مبہم (جو کچھ اس کی ڈائریوں اور انٹرویوز سے پتہ چلتا ہے) بنیاد بنا کر اس نے یہ قتل اپنے اور اپنی ماں کے "قتل" ہونے کی بدکے کے طور پر کیے کیوں کہ بقول اس کے اس کی شدید جسمانی چوٹوں کی وجہ سے ہی اس کی ماں غم کا شکار ہوئی اور انتقال کرگئی. جاوید اقبال کسی مالشیے وارداتی یا کسی وفادار ملازم کی غداری کی وجہ سے اس مقام تک پہنچا. اگرچہ یہ بات پورے وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ کوئی ملازم یا پیشہ ور مالشیا کسی کو اس حد تک زدو کوب کرے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا مطمع نظر گھر میں موجود مال ہے، سمجھ نہیں آتا. اتنا ضرور سمجھ آتی ہے کہ اس کو اس حد تک جسمانی تکلیف دینا نفرت جیسے جذبے کے بغیر ممکن نہیں. سمجھ یہی آتی ہے کہ جاوید اقبال سے کسی پرانی رنجش کا بدلہ لیا گیا تھا، جو کہ اس کی ہم جنس پرست زیادتیوں میں سےایک  ہوسکتی ہے. بعد میں اس کا زخمی ہونے کے باوجود پولیس کا دخل دینا بھی اس امکان کی توثیق کرتا ہے۔
اس واقعے کو بنیاد بنا لیا جائے تو اس سے اس کو سوشیوپیتھ ثابت کیا جاسکتا ہے مگر اس کے ماضی کے غیر صحت مندانہ رجحانات پھر بھی شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔
جاوید اقبال اور اس کے ساتھیوں کا یکے بعد دیگرے "خود کشی" کرنا بھی ہضم نہیں ہوتا. اس سارے معاملے میں پولیس نے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا اور جج صاحب کا متنازعہ سزا کا فیصلہ اُس غیر معمولی واقعے کی وجہ سے جذباتی ردعمل تھا۔
صاحب نے اس کتاب میں حقائق کو بہت عجیب طریقے سے بیان کرنی کی کوشش کی جیسے وہ اپنی رائے ہی مسلط کرنا چاہتے ہیں. جاوید اقبال کے سے سے پہلا اقبالی بیان اور ستاون بچوں کی لی گئی تصاویر اور ان کی لباسی باقیات اس کے گھر سے برآمد ہونا، بے شک منطق سے ایک بے ضرر ثبوت لگے مگر یہ بھی یاد رہے کہ ان تصاویر کے بعد ان بچوں کی لاش نہ ملنا جاوید اقبال کے خلاف جاتا ہے. کیوں کہ "مقتولین" آخری بار اس کے گھر میں اس کی تصاویر میں دیکھے گئے (یہ بھی یاد رہے کہ سیریل قاتلین اپنے اہداف کی باقیات یادگار کے طور پر جمع رکھتے ہیں) اور جاوید اقبال کے اعترافی بیان جو اس نے اخبار نے دفتر میں دیے کہ اس نے ان کی لاشیں تیزاب میں حل کردیں، بھی اس کے خلاف جاتا ہے۔
سہیل صاحب نے کچھ غیر اہم اور قابلِ رد نکتے نکال کر شکوک و شبہات بڑھانے اور اینے مغربی ہیومنسٹ نظریات کا پرچار کرنے کی کوشش کی ہے۔
Profile Image for ahmad  afridi.
139 reviews160 followers
January 10, 2020
Psychoanalysis of criminals is something done very rarely in Pakistan. We as a society are more interested in hanging every accused in public places (as evident from the decision of the court by hanging Javed Iqbal in Minar e Pakistan ) than taking the pains of understanding criminal psychology.
This analysis seems incomplete. The mysterious death of Javed Iqbal in prison buried with him "facts" which could have shed some more light on this incident. Dr. Sohail should have been honest in saying that the limited information I have doesn’t conclude anything rather than declaring this a case of "mental incapacity" just referring to a head injury suffered by Javed Iqbal sometime earlier. No proper clinical assessment was done, which he even suggested and was unable to be executed due to his death.
I wont waste words about incompetency of concerned authorities in this whole fiasco.
Profile Image for Atta Wadood Afd.
5 reviews29 followers
June 17, 2017
The author of this book himself has stated in the book "He wanted to merge his professional knowledge with his creativity by writing this book" and i think he has succeeded in what he wanted.This book has its own importance for the public in a sense that "every human has a right to live his life but within the circle of moralities made for and by the society" and they should know it.
I disliked the book as i never read stuff like this plus there are a lot of repetitions but later on i liked it.i think the beauty of the book is a chapter "conversation with Ain" in the end.


Displaying 1 - 4 of 4 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.