جس کتاب کا انتساب مہاجرین کے نام ہو،کس کا دل نہیں کرے گا پڑھنے کو! قدرت اللہ شہاب اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں بڑے گہرے اور حساس جذبوں کو بنا ظاہر کئے اس چاشنی کے ساتھ بیان کرتے نظر آتے ہیں گویا وہ مذاح کررہے ہیں۔۔۔پڑھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ مصنف تو رلانے کا ارادہ رکھے ہوئے تھے۔۔۔دوسرے الفاظ میں قاری کو رلا دیتے ہیں۔ یہ کتاب نا تو افسانے ہیں، نا ناول ہے، نا سفر نامہ ہے، نا آپ بیتی ہے، نا ہی مضامین۔۔۔ بلکہ ان سب کا مجموعہ ہے۔ شامل کردہ ناولٹ"یا خدا" ایک مہاجر خاندان کی(جسے خاندان کہنا ابھی تک طے نہیں ہوا) کی کہانی ہے جو پکار پکار کر اپنے دور کے انسانوں پر نگاہ حسرت ڈال کر "یا خدا" کی صدائیں بلند کررہی ہے جو کہ عرش تک کے ستون ہلادیتے ہیں لیکن۔۔۔۔لیکن کچھ نہیں۔ آپ کو ہر کہانی، ہر سفرنامے، ہر تحریر میں لذت محسوس ہوتی نظر آئے گی لیکن اسی کے ساتھ آنسووں کے دو قطرے آنکھوں سے بہنا شروع کرینگے۔۔۔اگر تو آپ "احساس" کا وجود تسلیم کرتے ہیں تبھی۔ مزاح کچھ اس انداز سے کئی گئی ہے کہ۔۔۔مجھے شعر یاد آگیا۔۔۔فالحال شعر سنیے:
~ خنجر سے کی گئی مرے پہلو میں گدگدی یعنی ہنسا ہنسا کے رلایا گیا مجھے
کتاب سے چند اقتباسات:
" اس لڑکی کا شعور اس قدر حساس اور بیدار تھا کہ وہ بیک وقت ایک ننھی سی بہن، ایک ننھی سی بیٹی، ایک ننھی سی ماں کے فرائض انجام دے رہی تھی"
"اندھیرے میں ایک بجلی سی لہرائی اور اس جوان عورت کا برہنہ جسم کائنات کے ذرے ذرے کو پکارنے لگا کہ دیکھو دیکھو یہ لاجواب ساعت بیت نہ جائے" (یا خدا)
پہلے مرزا غالب بھی بہت ناراض تھے کہ یہ دنیا والے بڑے بے حیا ہیں۔ان کے ذاتی اور نجی خطوط تک کو اٹھا کر چھاپ ڈالا لیکن جب میں نے اپنے خطوط کا حشر ان سے گوش گزار کیا تو وہ مسکرائے اور فرمانے لگے "اقبال میاں غم نہ کرو،یہ بڑے دل گردے والی امت ہے" (اقبال لی فریاد)
"جب تک مشرقی عورت خود آنکھ نہ لڑائے اس سے آنکھ نہ ملائیے،کیونکہ اس سے ان کا مذہب بگڑ جاتا ہے" (اے بنی اسرائیل)
"چنانچہ اب بنفس نفیس لڑنے کی بجائے نواب صاحب بٹیر اور شاعر حضرات شعر لڑانے لگے" (لے دے)
"اس خاندان کے کسی فرد نے انگریزوں کے سوا کسی ہندوستانی گھرانے میں خدمت گزاری کی ذلت برداشت نہیں کی تھی" (پٹیالہ پیگ)
I have read maa jee before this there were some stories in that book n some i have read under the banner of Surakh feeta. but these stories not all but majority of these disturb my heart and my mind. At some point i left reading and thinking to read some other book because it was really un-bearable for me to absorb such stories. If these are realities I thank to Allah, i was not there at that time. These are really bitter stories and if based on some fiction then it's not so good because this kind of stories try to snatch respect from female. Today is world of feminism but feminism is only a phenomenon. which can't raise or get get anything new for women, particularly in our region South Asia... As far as Qudrat Ullah Sahab include himself in his writing he failed to stayed away so the style is not so simple. If anyone read only one story from whole book that the main story "Surakh Feeta" will take sometime to understand. he have adopted diplomatic style which can disturb reader and drive to another book while reader is in mid of this book...
اس سے پہلے شہاب صاحب سے "شہاب نامہ" کی وجہ سے عقیدت تھی. اگرچہ ماں جی کو شہاب نامہ میں بھی شامل کیا ہوا تھا اور یہاں بھی شامل تھا. کچھ افسانے وہیں سے ماخوذ کیے گئے ہیں. خیر اصل بات یہ ہے کہ اس کتاب میں آپکو ایسے لگے گا کہ آپ شہاب صاحب نہیں سعادت حسن منٹو کو پڑھ رہے ہیں. طنز، مزاح اور جذبات کا ملا جلا ایک ایسا سانچہ کہ کچھ جگہوں پر قاری کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں.
بانو قدسیہ کا قلم اگر کسی کے لیے "مردِ ابریشم" جیسے الفاظ تحریر میں پروئے اور وہ تحریر ایک کتاب کا روپ دھار لے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اس ذات میں جاذبیت نہ ہو۔ مجھے بھی لمبے عرصے سے وہ کتاب پڑھنی تھی مگر خیر مردِ ابریشم تو اب تک نہیں پڑھی لیکن جب اسکول کی لائبریری میں قدرت اللہ صاحب کی یہ کتاب نظر آئی تو سوچا کیوں نہ اس پر ہاتھ صاف کیا جائے۔۔۔۔😈۔۔۔ میرا مطلب تھا کہ کیوں نہ اسے پڑھ لیا جائے🤭
اٹھا تو لائی مگر پہلے ہی زندگی اسٹوڈنٹ سے انڈیپینڈنٹ گرل بننے کے چکروں میں پانی پت کا میدان بنی ہوئی تھی (لمبی کہانی ہے پھر سناؤں گی) اور اس پر میں نے اس کتاب کے کچھ افسانے پڑھ لیے۔
کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو پڑھنے کے بعد کچھ دن تک آپ کے تمام محسوسات کا محور وہی رہتی ہیں۔ یہ لکھاری کا کمال فن بھی ہوتا ہے کہ وہ آپ کو کہانی پڑھنے پر تو مجبور نہیں کر سکتا مگر بعض دفعہ سوچنے پر کردیتا ہے۔ "سرخ فیتہ" بھی ایسے ہی افسانوں کی لڑی کا نام ہے جس کا ہر موتی معاشرے میں پھیلے وائٹ کالر حضرات کی سفاکیوں سے سیاہ پڑ چکا ہے۔ جو رزق کی تلاش میں گھر سے نکلنے والی صنف نازک پر باہر کے دروازے بھی بند کرنے پر مصر رہتے ہیں۔
"یا خدا" بھی ایک ایسی ہی تحریر ہے۔ جب قسمت نے ہندوستان کے باسیوں پر گھربار تنگ کردیا اور وہ اپنے نئے وطن میں بسنے کے خواب لے کر تمام مشکلیں برداشت کرکے پاک سر زمین پر پہنچے تو کیسے ان کے اپنوں نے ان کے خوابوں کی اندوہناک تعبیریں رقم کیں ۔۔۔۔۔۔۔
باقی افسانے بھی اچھے تھے مگر ایک تو مجھے نام یاد نہیں رہے اور دوسرا میں نے کتاب بھی بہت پہلے واپس کردی تھی(تم لوگ غلط ہی نہ سمجھ لو نہ مجھے 😂)