A novel exploring the culture, sociology, and political economy of and interface between traditional riverine inhabitants of the Neeli Bar region between rivers Satluj and Ravi, the settlers from eastern and northern districts who settled here during and after the establishment of the Canal Colonies, and migrants who came from across the border in 1947. At the same time it also chronicles how the people fared under successive civilian and military rulers, with a particular focus on the plight of women of different classes, feudalism, class discrimination, vocational caste rivalries and patriarchy.
Truly an intense and thought provoking piece of literature. It portrays real picture of Punjab since partition till recent times covering different aspects including cultural and social changes due to political developments and new interpretation of religious ideologies post 9/11.
If you want to know Punjab and its roots, this could be your best option. The writer has a keen observation and with her detailed characterization, you start living with those characters.
تارڑ صاحب نے محترمہ طاہرہ اقبال کو پنجاب کی قرۃ العین طاہرہ کہا ہے اور جب آپ اس تحریر کو پڑھ چکے ہوتے ہیں تو آپ کو سمجھ آتا ہے کہ ایسا کیوں کہا ہے ۔طاہرہ اقبال صاحبہ سیاست، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے رویے، مذہبی شدت پسندی جاگیرداری نظام ، مروجہ پیری مریدی اور گدی نشینی سمیت ہر اس چیز پر سوال اٹھاتی اور ان کی چولیں ہلانے کی اپنی سی کوشش کرتی نظر آتی ہیں جو اس مملکت خداداد کے معاشرے کو برے سے برے ترین میں ڈالنے کی وجہ ہیں۔ پاکستانی تاریخ پہ لکھا یہ ناول انتہائی دلیرانہ تحریر ہے جن موضوعات پر ( پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کردار، سیاسی اشرافیہ کے اللے تللوں، غریب اور نادار طبقے کی بدحالی اور جہالت ، جاگیرداروں اور جاگیرداری کی ذلالت، مذہبی شدت پسندی اور مذہب کے دولت اور مرتبہ کے حصول کے لیے استعمال وغیرہ) پر لکھتے بڑے بڑے ترم خانوں کا پتا پانی ہوتا ہے اس کو پناہ لگی لپکی رکھے کاغذ پر لفظوں کا روپ دینا کمال ہی ہے اور پاکستان جیسے کنزرویٹو معاشرے میں ایک عورت کا انتہائی جرات کے ساتھ ان موضوعات پہ قلم اٹھانا اور بھی حیرانگی کی بات ہے۔ ملک عبدالرحمن ست بھری پیر صاحب علی حیدر یا محمد علی معاویہ زارا شیر پاکیزہ اور ان جیسے انگنت کردار ہماری معاشرت کا اٹوٹ حصہ ہیں پر انہیں اس نظر سے شاید ہی آج تک کسی نے پرکھا ہو جس نظر سے طاہرہ اقبال صاحبہ نے ان کرداروں کو دیکھا ہے گاؤں کی معاشرت ہو رسم و رواج جاگیرداری معاشرے کی جاہلیت ہو یا پھر شہری معاشرت کی منافق زدہ حصے ان سب کو اپنے قلم کے ذریعے طاہرہ اقبال صاحب نے ایک لازوال تحریر میں ڈھالا ہے۔ بڑے عرصہ سے ایک خواہش تھی کوئی ایسی کتاب ہو جو دماغ کی چولیں ہلا دے۔ جو کچھ سوچنے پہ مجبور کرے اور آپ پہ سوچ کے نئے در وا کرے۔اور اس ناول کے ذریعے بہترین انداز میں پوری ہوئی۔ ۔ اس ناول کے پیش لفظ میں تارڑ صاحب نے بجا لکھا ہے " گارسیا مارکیز نے کہا تھا کہ اگر ایک مرد خوش نصیب ہو تو اس کی زندگی میں ایک ایسی عورت اتی ہے جو اسے مرد بنا دیتی ہے اسی طور ایک ادیب خوش نصیب ہوتا ہے جب اس کی زندگی میں ایک ایسا ناول اتا ہے جو اسے ناول نگار بنا دیتا طاہرہ، وہ ایک خوش نصیب ادیب ہے ⭐⭐⭐⭐⭐