Jump to ratings and reviews
Rate this book

Khushbu / خوشبو

Rate this book

312 pages, Hardcover

First published January 1, 1976

68 people are currently reading
910 people want to read

About the author

Parveen Shakir

35 books69 followers
Parveen Shakir was an Urdu poet, teacher and a civil servant of the Government of Pakistan.

Parveen started writing at an early age and published her first volume of poetry, Khushbu [Fragrance], in 1976 to great acclaim. She subsequently published other volumes of poetry; all well-received.

Shakir employed mainly two forms of poetry in her work, one being the prevalent Ghazal, and the other being free verse. The most prominent themes in Shakir's poetry are love, feminism, and social stigmas, though she occasionally wrote on other topics as well. Her work was often based on romanticism, exploring the concepts of love, beauty and their contradictions, and heavily integrated the use of metaphors, similes and personifications.

Arguably, Shakir can be termed the first female poet to use the word larki (girl) in her works. The male-dominated Urdu poetry scene seldom employs that word, and uses masculine syntax when talking about the 'lover'. Similarly, she often made use of the Urdu first-person, feminine pronoun in her verses which, though extremely common in prose, was rarely used in poetry, even by female poets, before her.

On 26 December 1994, Shakir's car collided with a bus while she was on her way to work in Islamabad. The accident resulted in her death, a great loss to the Urdu poetry world. The road on which the accident took place is named after her.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
135 (49%)
4 stars
90 (33%)
3 stars
30 (11%)
2 stars
12 (4%)
1 star
5 (1%)
Displaying 1 - 30 of 32 reviews
Profile Image for W.
1,185 reviews4 followers
January 30, 2021
This book represents the art of a romantic young woman,her desires and longings,some quite wistful.Delicate emotions are expressed beautifully.

The book does justice to its title "khushboo" (fragrance).It was a great loss to Urdu poetry,when Parveen Shakir died tragically in a traffic accident.She was still young,but left a rich legacy.
Profile Image for rida.
91 reviews
October 22, 2022
Can't believe she wrote this at 16!!
وہ غم کیا تھا جو آنسو نہ بن سکا ۔
وہ درد کیا تھا جو مصرعہ نہ بن سکا ۔
Profile Image for Aneela ♒the_mystique_reader♒.
180 reviews129 followers
October 10, 2016
Undeniably, the best of the best by a female poet.
Parveen Shakir is the pioneer of azaad poetry. The way she interprets her feelings and desires for her beloved; the pain and longing she felt and not to forget her desire to retain girlhood for eternity and the fear to never enter the realm of womanhood for she wanted her love to be as pure and chaste as that of a young innocent girl who knows no heartbreak and still love to stargaze at night.

The way she makes my heart melt when I feel amd read her "Khushbu" is beyond description.


Profile Image for Rural Soul.
560 reviews89 followers
November 25, 2025
وہ چاند بن کر مرے ساتھ ساتھ چلتا رہا
میں اس کی ہجر کی راتوں میں کب اکیلی ہوئی
...
کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں
شاید انھیں بہا کے کوئی خواب لے گیا
...
کوئی سوال جو پوچھے تو کیا کہوں اس سے
بچھڑنے والے سبب تو بتا جدائی کا
میں سچ کو سچ بھی کہوں گی مجھے خبر ہی نہ تھی
تجھے بھی علم نہ تھا میری اس برائی کا
...
میں اس وصال کے لمحے کا نام کیا رکھوں
ترے لباس کی شکنیں تری جبیں سے ملیں
...
حُسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے، جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھُلتیں
...
Profile Image for Aiman Sabir.
Author 3 books21 followers
November 4, 2022
وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے
تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح

یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح

کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح

ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی
تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح⚘️
Profile Image for Rabia.
234 reviews67 followers
October 16, 2019
Beautiful collection of Azad Nazam by my favourite poet Parveen Shakir....
وہ تو خوشبو ہے، ہوا میں بکھر جائے گا
مسئلہ تو پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا
Parveen shakir is the voice of today's young generation but unfortunately she left world too early. She's the one who spread like fragrance everywhere in very short time. But she will be everywhere through her poetry via her poetry and her imagination.
Her poetry is not confined to love or tge feeling of love but she also wrote about attitudes. She at one hand write about deprivations and also discuss today's society while she is not in this world.
Her poem " بے نسب ورثے کا بوجھ" is the one which is total reality of today's lustful society. Her poem on "لڑکیاں" won me heart and there are many more poems n Ghazals have special place in my heart. In essence of دوست ، اجنبی، گماں، کنگن بیلے کا، خوشبو کی زبان، احساس، رفاقت، عیادت، سفر، آزمائش، بچپنا،
She had lttle life but in this short span she earned a lot and a place for ever. This book clearly depict the art of a romance of young woman,her wishes, need some sadness. Nuanced emotions have expressed beautifully by Parveen Shakir in form of poetry....
The book does total relatable to its title "khushboo"
713 reviews76 followers
March 15, 2020
اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں
اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی

خوشبُو ہے، چاندنی ہے، لبِ جُو ہے، اور میں
کس بے پناہ رات میں تنہا کیا مجھے

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں
میرے ہاتھ کی لکیروں سے اُلجھ جاتی ہیں

دل کو لہو کروں تو کوئی نقش بن سکے
تو مجھ کو کربِ ذات کی سچی کمائی دے

مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمھاری یاد کے نام انتساب کر دے گا

تجھ کو کھو کر بھی رہوں، خلوتِ جاں میں تیری
جیت پائی ہے محبت نہ عجب، مات کے ساتھ
Profile Image for Abdul Rafay.
103 reviews12 followers
December 18, 2021
Pioneer of Modern Poetry in Urdu and a great poetess loved by all those who understand the essence and richness of Urdu literature. She is considered the first of her kind to introduce femininity in the poetic realm & was well-received by the public. I enjoyed reading ''Khushbu'' and literally fell in love with quite many poems. Her composition has everything from tickles of love to heartbreak, from worldly troubles to uncovering solutions.
Profile Image for Umair Akram.
55 reviews5 followers
November 4, 2022
چاندنی،
اس دریچے کو چھو کر
مرے نیم روشن جھروکے میں آئے، نہ آئے
مگر
میری پلکوں کی تقدیر سے نیند چنتی رہے
اور اس آنکھ کے خواب بنتی رہے!
Profile Image for Ahsan Iftikhar.
37 reviews10 followers
March 10, 2024
- Khushbo By Parveen Shakir

خوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے
موج ہوا کے ہاتھ میں اس کا سراغ ہے

🌟 پروین شاکر کو بارہا پڑھا مگر کبھی ان کی کتاب میرے ہاتھ نہ آئی لیکن اب کی بار مجھے خوش قسمتی سے ان کی پہلی کتاب " خوشبو " مل گئی۔ خوشبو پروین شاکر صاحبہ کی پہلی کتاب تھی جو انہوں نے صرف 24 برس کی عمر میں 1976 میں شائع کی۔

🌟 پروین شاکر صاحبہ نے یہ کتاب شادی سے پہلے لکھی اور اس میں وہ سب بھی لکھا جو اس زمانے سے لے کر اب تک ایک عورت کیلئے سوچنا بھی ممنوع سمجھا جاتا ہے پروین شاکر صاحبہ نے بہت بہادری سے ان تمام عورتوں کے جذبات کو کتاب میں سمایا جو عورتیں کہنے سے بھی ڈرتی تھیں پھر وہ موضوع محبت کا ہو ، بے وفائی کا ، گھر کے حالات کا ، کسی آفسر سے محبت کا ، جسم کی حدت کا ، محبوب کی دلہن کا ،ہونٹ کا ، زلف کا ، چاند کا ، سکھیوں کا ، آکھیوں کا ، آنگن کا ، چوڑیوں کا ، بارش کا ، اداسی کا ، تتلی کا چڑیوں کا ، لڑکیوں کی محبت کا تقریباً ہر موضوع پر پروین شاکر صاحبہ نے شاعری کہی ۔ ایک بہت ہی دلچسپ پہلو جو پروین شاکر صاحبہ کی شاعری سے ملتا ہے وہ یہ کہ اس میں نسوانیت چھلکتی ہے بارہا محسوس ہوتا ہے کہ یہ عورت نے لکھی ہے اور اس میں واضح احساسات چھلکتے ہیں۔ واقعی پروین شاکر نے شاعرہ ، سی ایس پی ، بیوی ، ماں ، بہن ، ہو کر سب کیلئے خاص کر عورتوں کیلئے لکھ کر ان کی نمائندگی کر کے بہت مہربانی کی ہے پروین شاکر واقعی بہترین شاعرہ تھیں دنیا ان کو آنے والے وقتوں تک یاد رکھے گی ۔
🌟 کتاب میں زیادہ تر تو نثری نظمیں ہیں اور کم غزلیں مگر کچھ اس کتاب میں سے اشعار جو مجھے بہت پسند آئے آپ کی خدمت میں حاضر ہیں

چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو
ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا

خوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے
موج ہوا کے ہاتھ میں اسکا سراغ ہے

اک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں
آج میں خود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں

تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات
جانے کیوں تیرے لئے دل کو دھڑکتا دیکھوں

بہت عزیز ہیں آنکھیں مری اسے لیکن
وہ جاتے جاتے انہیں کر گیا ہے پرنم پھر

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں
اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں

وہ دلنواز لمحے بھی گئی رتوں میں آئے جب
میں خواب دیکھتی رہی وہ مجھ کو دیکھتا رہا

میں جب بھی چاہوں اسے چھوکے دیکھ سکتی ہوں
مگر وہ شخص کہ لگتا ہے اب بھی خواب ایسا

ملنا دوبارہ ملنے کا وعدہ جدائیاں
اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے

اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤ
میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر ، تم کو اس سے کیا

یا کوئی میرے جیسی ساتھ تھی اور اس نے
چاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھا؟

لو میں آنکھیں بند کیے لیتی ہوں اب تم رخصت ہو
دل تو جانے کیا کہتا ہے لیکن دل کا کہنا کیا !

سب آئے میری عیادت کو وہ بھی آیا تھا
جو سب گئے تو میرا درد آشنا بھی گیا

مجھ کو تکمیل سمجھنے والا
اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں ؟

دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد
رنگ امید کھلے گا کہ بچھڑ جائے گا

حال پوچھا تھا اس نے ابھی
اور آنسو رواں ہوگئے

کیسے کہہ دوں مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی ہے

وہ کہیں بھی گیا تو لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

کون چاہے گا تمہیں میری طرح
اب کسی سے نہ محبت کرنا

اپنے گھر کی طرح وہ لڑکی بھی
نذر سیلاب ہوگئی شاید

دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
تری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے

یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا
ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے

میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی
مرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے

تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہوگا
ہمیں بھی شوق تھا کچھ بخت آزمائی کا

اب جفا کی صراحتیں بیکار
بات سے بھر سکا ہے گھاؤ کبھی

لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں
ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں

میں اس وصال کے لمحے کا نام کیا رکھوں
ترے لباس کی شکنیں تری جبیں سے ملیں

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

میں سچ کہوں گی اور پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا میں اس کو بھول جاؤں گی

کیا جانیے افق کے ادھر کیا طلسم ہے
لوٹے نہ زمین پہ اک بار جو گئے

موسم مزاج تھا نہ زمانہ سرشت تھا
میں اب بھی سوچتی ہوں وہ کیسے بدل گیا

میں جانتی ہوں میری بھلائی اسی میں تھی
لیکن یہ فیصلہ بھی کچھ اچھا نہیں ہوا

بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے

ریل کی سیٹی میں کیسے ہجر کی تمہید تھی
اس کو رخصت کر کے گھر لوٹے تو اندازہ ہوا

تیز بارش ہو گھنا پیڑ ہو اک لڑکی کو
ایسے منظر کبھی شہروب میں تو پائے نہ گئے

کبھی کبھار اسے دیکھ لیں کہیں مل لیب
یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو

وہ چاند بن کے مرے جسم میں پگھلتا رہا
لہو میں ہوتی گئی روشنی کی آمیزش

اس خوف سے وہ ساتھ نبھانے کے حق میں ہے
کھو کر مجھے یہ لڑکی کہیں دکھ سے مر نہ جائے

کیسے چھوڑیں اسے تنہائی پر
حرف آتا ہے مسیحائی پر

انگلیوں کو تراش دوں پھر بھی
عادتاً اس کا نام لکھیں گی

آکے دیوار پہ بیٹھی تھیں کہ پھر اڑ نہ سکیں
تتلیاں بانجھ مناظر میں نظر بند ہوئیں

سب لڑکیاں اک دوسرے کو جان رہی ہیں
یوں عام ہوا مسلک شہناز کا رشتہ

اس کو بینائی کے اندر دیکھوں
عمر بھر دیکھوں کہ پل بھر دیکھوں

لڑکیاں بیٹھی تھیں پاؤں ڈال کر
روشنی سی ہوگئی تالاب میں

ایسی خالی نسل کے خواب ہی کیا ہوں گے
جس کی نیند کا چشمہ تک چرس میں ہے

ہیں فون پہ کس کے ساتھ باتیں
اور ذہن کہاں بھٹک رہا ہے

حرف کیوں اپنے گنوائیں جا کر
بات سے پہلے جہاں بات کٹے

کھلونے پا لیے ہیں میں نے
مرے اندر کا بچہ مر رہا ہے

عشق تو خیر تھا اندھا لڑکا
حسن کو کون سی مجبوری تھی

وہ میرے پاؤں کو چھونے جھکا تھا جس لمحے
جو مانگتا اسے دیتی امیر ایسی تھی

جن کے کھیت اور آنگن ایک ساتھ اجڑتے ہیں
کیسے حوصلے ہوں گے ان غریب ماؤں میں

حسن کے سمجھنے جو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

پتھر بھی بہت حسیں ہیں لیکن
مٹی سے ہی بن سکیں گے کچھ گھر

ہر عشق گواہ ڈھونڈتا ہے
جیسے کہ نہیں یقین خود پر

انکھوں پہ آج چاند نے افشاں چنی تو کیا
تارہ سا ایک خواب تو مٹی میں مل چکا

پوری کتاب ہی شاندار ہے یہ چند غزلوں سے چند اشعار آپ کی خدمت میں حاضر ہیں
اوراق : 357
بس اتنا ہی
احسن افتخار
امید ہے آپ مجھے جانتے ہونگے
Profile Image for Zubair Ahmed.
19 reviews
January 27, 2026
ایکسٹیسی (Ecstasy)
سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنک
سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک

بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن
سلوٹیں ملبوس پر آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہوا

گرمئ رخسار سے دہکی ہوئی ٹھنڈی ہوا
نرم زلفوں سے ملائم انگلیوں کی چھیڑ چھاڑ

سرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس
ریشمیں بانہوں میں چوڑی کی کبھی مدھم کھنک

شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات
دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی تھی اک صدا

کانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اک دعا
کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ٹھہر جائیں ذرا!


--
اتنا معلوم تھا!

اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا

میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا

اور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟
آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟

میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر

خود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگا
کل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گا

آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا
وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگا
راہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریب

اس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا

غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا
ایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگا

بات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگا
یہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیں

اس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا
جان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیر

ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگا
کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسے

اس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگا
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر

دوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگا
یاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں

''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگا
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہ

ہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگا
جب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبر

اس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا
سوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دل

یوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا!
اتفاقاً مجھے اس شام مری دوست ملی

میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ؟ کیسے تھے؟
مجھ کو پوچھا تھا مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟

اس نے اک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی
اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے

کیا کہا اس نے مجھے یاد نہیں ہے لیکن
اتنا معلوم ہے خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا!


پروین شاکر (رحمہ)

اللہ تعالی ان کے درجات بلند و بالا فرمائیں!🤍


Profile Image for Fiza Irfan.
39 reviews3 followers
September 4, 2020
Book Review
Khushbu by Parveen Shakir
Firstly, a short introduction of the writer. Parveen Shakir is an Urdu poetess, educator and a municipal servant of the Government of Pakistan. Khushbu (Frangrance) was her first volume of poetry, which made her incredible recognition. She won the Adamjee Literary Award for this book. She was the first ever author to make utilization of ladylike pronouns in writing.
She usually writes on affection, feminism and social humiliation. Her work has been frequently in light of romance, letting out the ideas of adoration, attractiveness and their flaws. She comprehensively combined the usage of comparisons, allegories and characterization.
In Khushbu, She appears as a young sentimental girl who holds great aesthetic sense and an eye for beauty. She is absolutely in love with her femininity and never tries to shroud it. She asserts herself and wants the world to believe that a young girl’s innocence and feelings are worth expressing and worth experiencing. Partition is also a stressed theme of the book.

Parveen died in a road accident in 1994, in a road accident. However, her tragic death immortalized her.
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے، میرے ہونے کی گواہی دیں گے ۔

(People won’t forget me, even after my demise
My words would be my testament)


Profile Image for Alice  Wonderland .
5 reviews1 follower
November 15, 2020

میں تھک گئی ہوں اندر کی خانہ جنگی سے—پروین شا کر(خوشبو)
میں نے یہ کتاب أٹھ سال پہلے پڑھی تھی لیکن کچھ بھی سمجھ نھیں آیا-اب دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا- اس سے متعلق کالم کھنگالنے کے بعد بہتر طور سے پتہ چلا- شاعر کی یہ پہلی کتاب تھی جسے قلم بند کیا گیا- پر وین شاکرکو یہ معلوم تھا کہ کیسے غم کو خوشی کے جز بات میں لپیٹ کر پیش کیا جاءے- انھوں نےتصوراتی انداز اپنایا -اور بچپن سے جوانی تک کے ایک لڑکی کو در پیش مسائل کو انوکھے انداز میں پیش کیا-
Profile Image for Munazza Mazhar.
20 reviews6 followers
December 26, 2022
وہ تو خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پُھول کا ہے، پُھول کدھر جائے گا

ہم تو سمجھے تھے کہ اِک زخم ہے، بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اُتر جائے گا

وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا، گُزر جائے گا

وہ جب آئے گا تو پھر اُس کی رفاقت کے لیے
موسمِ گُل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا

آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہو گی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے ،اُتر جائے گا

مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث
جُرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا
This entire review has been hidden because of spoilers.
Profile Image for Nusrat Zahra.
4 reviews3 followers
November 3, 2018
She named her first book khushboo,fragrance. She loved flowers,she loved their fragrance and it was one of her favorite themes for her poems,from that day on words she sealed her name on the cartels of fame.till today khushboo is the best selling books.
Profile Image for Muhammad Touqeer.
14 reviews
February 14, 2025
It was wonderful, literally wonderful. So many raw and forceful emotions packed in ghazals and poems. Parveen did not hesitate while expressing her desires and grieves. She used nature as raw material for her poetry.
2 reviews
March 24, 2019
Lajwab Kitab Hai
This entire review has been hidden because of spoilers.
Profile Image for Mahender Singh.
434 reviews5 followers
July 28, 2022
I read Hindi edition of this book, published by Vani Prakashan.
Very good poetry
Profile Image for Anurag Kumar.
61 reviews
February 16, 2024
She's my favourite poet. If you're a young soul and an introvert and gay this is the best poetry book for you ❤️
Profile Image for ناسازگار.
75 reviews14 followers
October 26, 2025
پروین شاکر کے کلام کے اشعار کو میں اپنے ہمسفر مانتا ہوں۔ اپنے شکستہ خیالات کو ایک نام سے پکارنے کا جب جی کرے، تو انہیں کے اشعار قلم کاغذ لے کرلکھا کرتا ہوں ، حروف کی شکل میں اپنی ذات پاتا ہوں۔
Displaying 1 - 30 of 32 reviews

Join the discussion

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.