Parveen Shakir was an Urdu poet, teacher and a civil servant of the Government of Pakistan.
Parveen started writing at an early age and published her first volume of poetry, Khushbu [Fragrance], in 1976 to great acclaim. She subsequently published other volumes of poetry; all well-received.
Shakir employed mainly two forms of poetry in her work, one being the prevalent Ghazal, and the other being free verse. The most prominent themes in Shakir's poetry are love, feminism, and social stigmas, though she occasionally wrote on other topics as well. Her work was often based on romanticism, exploring the concepts of love, beauty and their contradictions, and heavily integrated the use of metaphors, similes and personifications.
Arguably, Shakir can be termed the first female poet to use the word larki (girl) in her works. The male-dominated Urdu poetry scene seldom employs that word, and uses masculine syntax when talking about the 'lover'. Similarly, she often made use of the Urdu first-person, feminine pronoun in her verses which, though extremely common in prose, was rarely used in poetry, even by female poets, before her.
On 26 December 1994, Shakir's car collided with a bus while she was on her way to work in Islamabad. The accident resulted in her death, a great loss to the Urdu poetry world. The road on which the accident took place is named after her.
This book represents the art of a romantic young woman,her desires and longings,some quite wistful.Delicate emotions are expressed beautifully.
The book does justice to its title "khushboo" (fragrance).It was a great loss to Urdu poetry,when Parveen Shakir died tragically in a traffic accident.She was still young,but left a rich legacy.
Undeniably, the best of the best by a female poet. Parveen Shakir is the pioneer of azaad poetry. The way she interprets her feelings and desires for her beloved; the pain and longing she felt and not to forget her desire to retain girlhood for eternity and the fear to never enter the realm of womanhood for she wanted her love to be as pure and chaste as that of a young innocent girl who knows no heartbreak and still love to stargaze at night.
The way she makes my heart melt when I feel amd read her "Khushbu" is beyond description.
وہ چاند بن کر مرے ساتھ ساتھ چلتا رہا میں اس کی ہجر کی راتوں میں کب اکیلی ہوئی ... کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں شاید انھیں بہا کے کوئی خواب لے گیا ... کوئی سوال جو پوچھے تو کیا کہوں اس سے بچھڑنے والے سبب تو بتا جدائی کا میں سچ کو سچ بھی کہوں گی مجھے خبر ہی نہ تھی تجھے بھی علم نہ تھا میری اس برائی کا ... میں اس وصال کے لمحے کا نام کیا رکھوں ترے لباس کی شکنیں تری جبیں سے ملیں ... حُسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے، جاناں دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھُلتیں ...
Beautiful collection of Azad Nazam by my favourite poet Parveen Shakir.... وہ تو خوشبو ہے، ہوا میں بکھر جائے گا مسئلہ تو پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا Parveen shakir is the voice of today's young generation but unfortunately she left world too early. She's the one who spread like fragrance everywhere in very short time. But she will be everywhere through her poetry via her poetry and her imagination. Her poetry is not confined to love or tge feeling of love but she also wrote about attitudes. She at one hand write about deprivations and also discuss today's society while she is not in this world. Her poem " بے نسب ورثے کا بوجھ" is the one which is total reality of today's lustful society. Her poem on "لڑکیاں" won me heart and there are many more poems n Ghazals have special place in my heart. In essence of دوست ، اجنبی، گماں، کنگن بیلے کا، خوشبو کی زبان، احساس، رفاقت، عیادت، سفر، آزمائش، بچپنا، She had lttle life but in this short span she earned a lot and a place for ever. This book clearly depict the art of a romance of young woman,her wishes, need some sadness. Nuanced emotions have expressed beautifully by Parveen Shakir in form of poetry.... The book does total relatable to its title "khushboo"
Pioneer of Modern Poetry in Urdu and a great poetess loved by all those who understand the essence and richness of Urdu literature. She is considered the first of her kind to introduce femininity in the poetic realm & was well-received by the public. I enjoyed reading ''Khushbu'' and literally fell in love with quite many poems. Her composition has everything from tickles of love to heartbreak, from worldly troubles to uncovering solutions.
خوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے موج ہوا کے ہاتھ میں اس کا سراغ ہے
🌟 پروین شاکر کو بارہا پڑھا مگر کبھی ان کی کتاب میرے ہاتھ نہ آئی لیکن اب کی بار مجھے خوش قسمتی سے ان کی پہلی کتاب " خوشبو " مل گئی۔ خوشبو پروین شاکر صاحبہ کی پہلی کتاب تھی جو انہوں نے صرف 24 برس کی عمر میں 1976 میں شائع کی۔
🌟 پروین شاکر صاحبہ نے یہ کتاب شادی سے پہلے لکھی اور اس میں وہ سب بھی لکھا جو اس زمانے سے لے کر اب تک ایک عورت کیلئے سوچنا بھی ممنوع سمجھا جاتا ہے پروین شاکر صاحبہ نے بہت بہادری سے ان تمام عورتوں کے جذبات کو کتاب میں سمایا جو عورتیں کہنے سے بھی ڈرتی تھیں پھر وہ موضوع محبت کا ہو ، بے وفائی کا ، گھر کے حالات کا ، کسی آفسر سے محبت کا ، جسم کی حدت کا ، محبوب کی دلہن کا ،ہونٹ کا ، زلف کا ، چاند کا ، سکھیوں کا ، آکھیوں کا ، آنگن کا ، چوڑیوں کا ، بارش کا ، اداسی کا ، تتلی کا چڑیوں کا ، لڑکیوں کی محبت کا تقریباً ہر موضوع پر پروین شاکر صاحبہ نے شاعری کہی ۔ ایک بہت ہی دلچسپ پہلو جو پروین شاکر صاحبہ کی شاعری سے ملتا ہے وہ یہ کہ اس میں نسوانیت چھلکتی ہے بارہا محسوس ہوتا ہے کہ یہ عورت نے لکھی ہے اور اس میں واضح احساسات چھلکتے ہیں۔ واقعی پروین شاکر نے شاعرہ ، سی ایس پی ، بیوی ، ماں ، بہن ، ہو کر سب کیلئے خاص کر عورتوں کیلئے لکھ کر ان کی نمائندگی کر کے بہت مہربانی کی ہے پروین شاکر واقعی بہترین شاعرہ تھیں دنیا ان کو آنے والے وقتوں تک یاد رکھے گی ۔ 🌟 کتاب میں زیادہ تر تو نثری نظمیں ہیں اور کم غزلیں مگر کچھ اس کتاب میں سے اشعار جو مجھے بہت پسند آئے آپ کی خدمت میں حاضر ہیں
چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا
خوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے موج ہوا کے ہاتھ میں اسکا سراغ ہے
اک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج میں خود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں
تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات جانے کیوں تیرے لئے دل کو دھڑکتا دیکھوں
بہت عزیز ہیں آنکھیں مری اسے لیکن وہ جاتے جاتے انہیں کر گیا ہے پرنم پھر
تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں
وہ دلنواز لمحے بھی گئی رتوں میں آئے جب میں خواب دیکھتی رہی وہ مجھ کو دیکھتا رہا
میں جب بھی چاہوں اسے چھوکے دیکھ سکتی ہوں مگر وہ شخص کہ لگتا ہے اب بھی خواب ایسا
ملنا دوبارہ ملنے کا وعدہ جدائیاں اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے
اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤ میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر ، تم کو اس سے کیا
یا کوئی میرے جیسی ساتھ تھی اور اس نے چاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھا؟
لو میں آنکھیں بند کیے لیتی ہوں اب تم رخصت ہو دل تو جانے کیا کہتا ہے لیکن دل کا کہنا کیا !
سب آئے میری عیادت کو وہ بھی آیا تھا جو سب گئے تو میرا درد آشنا بھی گیا
مجھ کو تکمیل سمجھنے والا اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں ؟
دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد رنگ امید کھلے گا کہ بچھڑ جائے گا
حال پوچھا تھا اس نے ابھی اور آنسو رواں ہوگئے
کیسے کہہ دوں مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی ہے
وہ کہیں بھی گیا تو لوٹا تو مرے پاس آیا بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
کون چاہے گا تمہیں میری طرح اب کسی سے نہ محبت کرنا
اپنے گھر کی طرح وہ لڑکی بھی نذر سیلاب ہوگئی شاید
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے تری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے
یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی مرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے
تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہوگا ہمیں بھی شوق تھا کچھ بخت آزمائی کا
اب جفا کی صراحتیں بیکار بات سے بھر سکا ہے گھاؤ کبھی
لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں
میں اس وصال کے لمحے کا نام کیا رکھوں ترے لباس کی شکنیں تری جبیں سے ملیں
وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
میں سچ کہوں گی اور پھر بھی ہار جاؤں گی وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا وہ کہہ رہا تھا میں اس کو بھول جاؤں گی
کیا جانیے افق کے ادھر کیا طلسم ہے لوٹے نہ زمین پہ اک بار جو گئے
موسم مزاج تھا نہ زمانہ سرشت تھا میں اب بھی سوچتی ہوں وہ کیسے بدل گیا
میں جانتی ہوں میری بھلائی اسی میں تھی لیکن یہ فیصلہ بھی کچھ اچھا نہیں ہوا
بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے
ریل کی سیٹی میں کیسے ہجر کی تمہید تھی اس کو رخصت کر کے گھر لوٹے تو اندازہ ہوا
تیز بارش ہو گھنا پیڑ ہو اک لڑکی کو ایسے منظر کبھی شہروب میں تو پائے نہ گئے
کبھی کبھار اسے دیکھ لیں کہیں مل لیب یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو
وہ چاند بن کے مرے جسم میں پگھلتا رہا لہو میں ہوتی گئی روشنی کی آمیزش
اس خوف سے وہ ساتھ نبھانے کے حق میں ہے کھو کر مجھے یہ لڑکی کہیں دکھ سے مر نہ جائے
کیسے چھوڑیں اسے تنہائی پر حرف آتا ہے مسیحائی پر
انگلیوں کو تراش دوں پھر بھی عادتاً اس کا نام لکھیں گی
آکے دیوار پہ بیٹھی تھیں کہ پھر اڑ نہ سکیں تتلیاں بانجھ مناظر میں نظر بند ہوئیں
سب لڑکیاں اک دوسرے کو جان رہی ہیں یوں عام ہوا مسلک شہناز کا رشتہ
اس کو بینائی کے اندر دیکھوں عمر بھر دیکھوں کہ پل بھر دیکھوں
لڑکیاں بیٹھی تھیں پاؤں ڈال کر روشنی سی ہوگئی تالاب میں
ایسی خالی نسل کے خواب ہی کیا ہوں گے جس کی نیند کا چشمہ تک چرس میں ہے
ہیں فون پہ کس کے ساتھ باتیں اور ذہن کہاں بھٹک رہا ہے
حرف کیوں اپنے گنوائیں جا کر بات سے پہلے جہاں بات کٹے
کھلونے پا لیے ہیں میں نے مرے اندر کا بچہ مر رہا ہے
عشق تو خیر تھا اندھا لڑکا حسن کو کون سی مجبوری تھی
وہ میرے پاؤں کو چھونے جھکا تھا جس لمحے جو مانگتا اسے دیتی امیر ایسی تھی
جن کے کھیت اور آنگن ایک ساتھ اجڑتے ہیں کیسے حوصلے ہوں گے ان غریب ماؤں میں
حسن کے سمجھنے جو عمر چاہیے جاناں دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
پتھر بھی بہت حسیں ہیں لیکن مٹی سے ہی بن سکیں گے کچھ گھر
ہر عشق گواہ ڈھونڈتا ہے جیسے کہ نہیں یقین خود پر
انکھوں پہ آج چاند نے افشاں چنی تو کیا تارہ سا ایک خواب تو مٹی میں مل چکا
پوری کتاب ہی شاندار ہے یہ چند غزلوں سے چند اشعار آپ کی خدمت میں حاضر ہیں اوراق : 357 بس اتنا ہی احسن افتخار امید ہے آپ مجھے جانتے ہونگے
Book Review Khushbu by Parveen Shakir Firstly, a short introduction of the writer. Parveen Shakir is an Urdu poetess, educator and a municipal servant of the Government of Pakistan. Khushbu (Frangrance) was her first volume of poetry, which made her incredible recognition. She won the Adamjee Literary Award for this book. She was the first ever author to make utilization of ladylike pronouns in writing. She usually writes on affection, feminism and social humiliation. Her work has been frequently in light of romance, letting out the ideas of adoration, attractiveness and their flaws. She comprehensively combined the usage of comparisons, allegories and characterization. In Khushbu, She appears as a young sentimental girl who holds great aesthetic sense and an eye for beauty. She is absolutely in love with her femininity and never tries to shroud it. She asserts herself and wants the world to believe that a young girl’s innocence and feelings are worth expressing and worth experiencing. Partition is also a stressed theme of the book.
Parveen died in a road accident in 1994, in a road accident. However, her tragic death immortalized her. مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے لفظ میرے، میرے ہونے کی گواہی دیں گے ۔
(People won’t forget me, even after my demise My words would be my testament)
میں تھک گئی ہوں اندر کی خانہ جنگی سے—پروین شا کر(خوشبو) میں نے یہ کتاب أٹھ سال پہلے پڑھی تھی لیکن کچھ بھی سمجھ نھیں آیا-اب دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا- اس سے متعلق کالم کھنگالنے کے بعد بہتر طور سے پتہ چلا- شاعر کی یہ پہلی کتاب تھی جسے قلم بند کیا گیا- پر وین شاکرکو یہ معلوم تھا کہ کیسے غم کو خوشی کے جز بات میں لپیٹ کر پیش کیا جاءے- انھوں نےتصوراتی انداز اپنایا -اور بچپن سے جوانی تک کے ایک لڑکی کو در پیش مسائل کو انوکھے انداز میں پیش کیا-
She named her first book khushboo,fragrance. She loved flowers,she loved their fragrance and it was one of her favorite themes for her poems,from that day on words she sealed her name on the cartels of fame.till today khushboo is the best selling books.
It was wonderful, literally wonderful. So many raw and forceful emotions packed in ghazals and poems. Parveen did not hesitate while expressing her desires and grieves. She used nature as raw material for her poetry.
پروین شاکر کے کلام کے اشعار کو میں اپنے ہمسفر مانتا ہوں۔ اپنے شکستہ خیالات کو ایک نام سے پکارنے کا جب جی کرے، تو انہیں کے اشعار قلم کاغذ لے کرلکھا کرتا ہوں ، حروف کی شکل میں اپنی ذات پاتا ہوں۔