Jump to ratings and reviews
Rate this book

Mein Sahir Hun

Rate this book
Mein Sahir Hun by Chandra Varma, Dr. Salman Abid

Hardcover

First published December 1, 2014

2 people are currently reading
23 people want to read

About the author

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
5 (33%)
4 stars
6 (40%)
3 stars
3 (20%)
2 stars
0 (0%)
1 star
1 (6%)
Displaying 1 - 2 of 2 reviews
Profile Image for Rabia.
233 reviews67 followers
September 3, 2023
تبصرہ : میں ساحر ہوں
ساحر جن کا اصل نام عبدالحئی ہے یہ انکی سوانح عمری ہے مگر یہ سوانح عمری انہوں نے خود تحریر نہیں کی بلکہ یہ ان کی وفات کے کئی سال بعد ان کی پرسنلٹی پر ریسرچ کر کے لکھی گئی ہے اور اس قدر خوبصورتی کے ساتھ کہ بعض مرتبہ احساس ہونے لگتا ہے کہ یہ خود ساحر صاحب ہی کی بات کر رہے ہیں۔یہ کتاب آج بھی اردو ادب کی بہترین سوانح عمری میں شامل ہوتی ہے۔
چندوروما اور سلمان خالد نے اس کتاب کو نہایت ہی خوبصورت انداز میں مرتب کیا ہے اور کوئی بھی ایسا پہلو نہیں چھوڑا جس پر قائرین کسی بھی تشویش کا شکار ہوں آج سے کچھ سال قبل میں نے امرتا پریتم کیا بیتی رسیدی ٹکٹ کو پڑھا تھا اور اس میں جس قدر ساحر کا تذکرہ تھا اسی وقت میں چاہتی تھی کہ ساحر کی آپ بیتی کو بھی پڑھوں مگر زہے نصیب یہ وقت سال 2023 میں آیا اور اس کتاب کو پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ساحر کی ابتدائی زندگی جیسا کہ بچپن کوئی خاص نہ تھا اس میں گھریلو مسائل جو کہ شاید آج بھی ہم لوگ دیکھتے ہیں مگر اہم چیز ان کی والدہ ان کی سب کچھ تھی، جنہوں نے مقدمہ کے ذریعے اپنے بیٹے کی سرپرستی حاصل کی تھی تعلیمی طور پر بھی ساحر کوئی نمایاں طالب علم نہ تھے کئی کالجوں سے ناکامی اور ان کو چھوڑا جانے کے واقعات موجود ہیں۔ محبت کے معاملات میں ساحر کافی دل پھینک ثابت ہوئے مگر افسوس کہ اس میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کبھی محبوبہ کا انتقال ،کبھی مالی وسائل کی قلت اور کبھی اس کا کسی دوسری جانب شادی کرنا تھا۔ مگر جو مقام ساحر نے امرتا کو اور امرتا نے ساحر کو دیا وہ رہتی دنیا تک ایک مثال رہے گی۔ ایک دوسرے کا وصل تو نصیب نہیں ہوا تمام عمر فراق میں گزری لیکن ان کی مثال دو جسم ایک جان سی تھی اور یہ کئی جگہ پر امرتا بھی واضح کر چکی ہیں۔دوستی یاری کے معاملات میں ساحر خاصا امیر اور خوش قسمت رہے ہیں انہوں نے کبھی کنجوسی نہیں دوستوں کی خاطر میں، چاہے مالی وسائل کتنے ہی قلیل ہوں اور ان کے دوستوں نے بھی کبھی ان کو تنہائی میں نہیں چھوڑا اور یہ واقعی لاجواب ہے۔
زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے بہت جدوجہد کی ساحر نے اور کئی دروں کی ٹھوکریں اور خاک چھانی، مختلف جگہ سے انکار بھی سنا مگر ہار نہیں مانی اور اس میں سب سے دکھی بات جو ساحر کو لگتی تھی، وہ اس تگ و دو کے دور میں ماں کی سونے کی چوڑیاں بیچ کر گھر کا کرایہ ادا کرنا تھا۔ مگر جب قسمت کا سکہ چلا تو اس کا کوئی جواب نہ رہا کہ تمام فلموں کے گیت کار ساحر کو گیت کار بنانےکی خواہش کی جانے لگی منہ مانگے دام پر گیت لکھے جانے لگے۔ ساحر کو پشیمانی تھی کہ انہوں بے شاعری کو ذریعہ معاش بنا لیا
کچھ رقابت داروں نے بھی جنم لیا مگر ساحر کی کامیابی آسمانوں پر تھی انھوں نے پرواہ نہیں کی ۔لگ بھگ 200 سے زیادہ گیت ساحر نے دیے۔ ساحر نے عمر بھر شادی نہیں کی اور ہر قدم پر والدہ کو ساتھ رکھا مگر والدہ کی وفات نے ان کی کمر کو توڑ دیا پنجابی میں گیت ہے
تن رنگ نہیں لبنے بیبا
حسن جوانی تے ماپے
شہرت، دلدادا ہونا، کامیابی اور محبت کچھ بھی ساحر کو واپس دنیا سے نہیں مل سکا اور اسی غم نے ان کو اندر سے توڑنا شروع کر دیا جب والدہ حیات تھی تو وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہو چکے تھے اور جیسے ہی اپنی تنہائی کو بانٹنے اپنے معالج جو خود اسی بیماری میں مبتلا تھے اور دوست تھے، ان کو ملنے گئے وہیں اس دنیا فانی کو داغ مفارقت دے دیا اور اخری الفاظ
ڈاکٹر کپور
میں مرنا نہیں چاہتا
چہرے پر ہزار چیچک کے داغ سہی زندگی خوبصورت ہے۔
Profile Image for Bushra Ayub Khan.
203 reviews9 followers
March 20, 2021
مصنفین کو بہت داد!
یہ شاید ساحر نے لکھی ہوتی تو زیادہ بہترین ہوتی مگر اس کے ادبی قد کو نظر انداز کرنا بے وقوفی ہوگی ۔
یہ بہت حسین لکھی گئی ہے 👌🏻👌🏻👌🏻
Displaying 1 - 2 of 2 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.