Jump to ratings and reviews
Rate this book

Anwasi / انواسی

Rate this book
انیسویں صدی عیسوی کی آخری چوتھائی میں انگریز اپناریلوے کا نظام لے کر برصغیر پہنچے اور کراچی سے لاہور تک ریلوے ٹریک بچھاتے ہوئے جب بہاول پور کے نزدیک دریائے ستلج پر ایمپریس برج بنانے لگے تو اس کہانی کا آغاز ہوا۔ برطانوی استعمار نے جب مقامیت کو برباد کیا تو اس کے پردے سے سنگری جیسے کئی کردار معصوم عورت سے “انواسی” ہو گئے۔

334 pages, Hardcover

First published July 1, 2019

20 people are currently reading
177 people want to read

About the author

Mohammad Hafeez Khan

10 books19 followers
محمد حفیظ خان ایک معتبر محقق، مؤرخ ،نقاد، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نگار، شاعر، کالم نویس اور صحافی کے طور پر منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ گذشتہ 51برسوں سے علم وادب کی مختلف اصناف میں گراں قدر اضافہ کا باعث ہوتے ہوئے بھی انھوں نے پیشہ ورانہ لحاظ سے مختلف جہتوں میں ناموری حاصل کی۔ 1980ء میں وکالت سے آغاز کے بعد انھوں نے ریڈیو پاکستان کو بطور پروڈیوسر جائن کیا، بعدازاں جامعاتی سطح پر قانون کے مدرس رہے۔ یکے بعد دیگرے وفاقی اور صوبائی سول سروس کا حصہ رہنے کے بعد ضلعی عدلیہ میں شمولیت حاصل کی جہاں سول جج سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تک کے مناصب پر فائز رہنے کے علاوہ حکومت ِ پنجاب میں ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ قانون و پارلیمانی امور اور پنجاب سروس ٹربیونل کے ممبر اور چیئر مین بھی رہے۔ ملک کے مایہ ناز تربیتی اداروں میںقانون اور ادب کی تدریس بھی اُن کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ محمد حفیظ خان اب تک تین مرتبہ ا کادمی ادبیات کے ایوارڈ، پاکستان ٹیلی وژن سے بہترین ڈراما نگار کا ایوارڈ اور قومی سول ایوارڈ ’’تمغۂ امتیاز‘‘ حاصل کر چکے ہیں۔ اکادمی ادبیات کے بورڈ آف گورنرز کی رکنیت، ’’کمالِ فن‘‘ ایوارڈ کی جیوری میں کئی بار کی شمولیت، اکادمی کی اشاعتی کمیٹی، ترجمہ کمیٹی اور وظائف کمیٹی کی رکنیت بھی اُن کے اعزازات میں شامل ہیں۔ ’’پلاک ‘‘کی جانب سے گذشتہ برس اُن کی کتاب ’’پٹھانے خان‘‘ پرشفقت تنویر مرزا ایوارڈ اورنیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے انھیں تین مرتبہ ’’کتاب کا سفیر‘‘ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ گذشتہ تین برسوں میں اُن کے چار ناولوں ــ ’’ادھ ادھورے لوگ‘‘ ، ’’انواسی‘‘، ’’کرک ناتھ‘‘ اور ’’منتارا‘‘نے قومی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے۔ پندرہ برس تک روزنامہ نوائے وقت، جنگ، نئی بات اور خبریںمیں کالم نگاری کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ کے انگریزی ماہنامہ "The Competitor" کے ایک سو بیس سے زائد شماروں کی اجرائی اورسرائیکی ٹی وی چینلز وسیب اور روہی کے لیے ڈراما سیرئیلز لکھ چکے ہیں۔ نمائندہ ادیب کی حیثیت سے پاکستانی اہلِ قلم کی نمائندگی کرتے ہوئے انھوں نے دو بار چین کا دورہ بھی کیا ہے۔ محمد حفیظ خان کی تحریریں جہاں کلیات اور جامعات کے ادبی نصاب کا حصہ ہیں وہاں اُن کی ادبی خدمات کی مختلف جہتوں پر ایم اے اور ایم فل کے کئی مقالے بھی لکھے جا چکے ہیں۔

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
12 (54%)
4 stars
1 (4%)
3 stars
3 (13%)
2 stars
0 (0%)
1 star
6 (27%)
Displaying 1 - 3 of 3 reviews
9 reviews1 follower
Read
December 3, 2020
بات شروع ہوتی ہے 1872 سے جب انگریز سرکار کراچی سے لاہور تک ریلوے ٹریک بچھا رہا تھا- بہاولپور اور لودھراں کے بیچ موجود دریائے ستلج پر ایمپریس پل بنانے کے دوران بستی آدم واہن کے باسیوں میں تشویش کی لہر دوڑ چکی تھی اور تمام لوگ جمع تھے، تاکہ فیصلہ کر سکیں کہ انگریز سرکار پل بنانے کے چکروں میں جو ان کے قدیمی قبرستان سے چھیڑخانی کرنے لگی ہے اس سے کیسے نبٹا جائے- بہت کم کتب ایسی ہوتی ہیں جو تاریخ کی راکھ میں دبے حقیقی واقعات کی چنگاریوں کو الاؤ میں نہ سہی، مگر دوبارہ بھڑکنے کے قابل بناتی ہیں- ایسی کتب کو ناول کا روپ دے کر مصنف فرضی کرداروں کے سہارے حقیقت کے ایسے پل کھڑے کرتا ہے، جس پر چلتے ہوئے قاری تاریخی حقائق کا نظارہ کر کے بہت سے انکشافات کا حامل ہو جاتا ہے- ایسا ہی ایک تازہ ناول "انواسی" ہے جسے محمد حفیظ خان کے قلم نے صرف موجودہ وقت کے لیے نہیں، بلکہ آنے والی کئی صدیوں تک کے لیے زندہ رہنے کا آب حیات عطا کر دیا ہے-

انواسی صرف "سنگری" کی کہانی نہیں بلکہ یہ انسانی نفسیات، حالات کی کشمکش، مذہبی منافرت، محبت و نفرت، ضد اور انا کی ایک دلچسپ داستان ہے- یہ معاشرے کی وہ تصویر ہے جس میں عموماً کئی "سنگریاں" کسی "سیدے" کے ہاتھوں پامال ہو کر زندگی کی جانب دوبارہ لوٹنے کی جدوجہد کرتی ہیں- اپنی بقا اور جینے کی آرزو لیے وہ ظاہری طور پر ہر معاشرتی رسم و رواج کی باغی دکھائی دینے لگتی ہیں اور ان کے لیے پھر مرد ذات صرف ایک چم اورماس کھانے والی بلا سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی- مصنف نے اس ناول کے ہر کردار میں روح پھونک کر اسے قاری کے سامنے ایسے کھڑا کیا ہے کہ گویا وہ آپ کے ارگرد چلتا کوئی مجسم کردار ہو- ناول کا آغاز بستی کے بڑے بوڑھوں کے اجتماع، انگریز کی جانب سے ان کے قدیمی قبرستان کی مسماری کا ارادہ اور اپنے وڈکوں کی قبروں کی حفاظت کے لیے کسی حکمت عملی کی تلاش سے ہوتا ہے- "سیدا" بستی کا ایک بانکا، ہٹ دھرم اور بہادر جوان ہے جو ہر قیمت پر انگریز کو اس ارادے سے باز رکھنے کی کوشش میں ہے چاہے اس کے لیے جان سے ہاتھ دھونا پڑے- اسے اپنے وڈکوں کی قبروں کی مٹی میں ان کی خوشبو محسوس ہوتی ہے اور یہی بات وہ اپنے جیسے ایک دوسرے جوان "منگر" کو کہتا ہے کہ، "اس بستی سے اٹھ جانے والے کیسے کیسے لوگ اس قبرستان کی مٹی میں ملے ہوئے ہیں- تم کہتے ہو کہ ہم ان کی ہڈیاں نکال کر کسی دوسری جگہ کر دیں مگر ان کے ماس کا کیا کرو گے جو پانی بن کر اس مٹی میں جذب ہو چکا ہے- کیا صرف ہڈیاں ہی انسان کی اخیر ہوتی ہیں؟ وہ ماس جس سے ہم پیار کرتے ہیں، جو ہماری صورتیں بناتا ہے، ہمارے ونکوونک نقوش کو ترتیب دے کر ہمیں ایک دوسرے سے الگ بناتا ہے، کیا وہ ہمارا اخیر نہیں ہوتا؟ اس کا کیا کرو گے؟ کہاں لے جاؤ گے یہ مٹی جو میرے پیاروں کے ماس میں گندھی ہے؟ خوشبو ہے ان کی اس مٹی میں-" منگر، سیدا کی طرح بہادر تو ہے مگر اس کی طرح جوشیلا اور عقل کو جذبات کے ہاتھوں مغلوب نہیں ہونے دیتا، امن اور حکمت سے اس ساری صورتحال سے نبٹنا چاہتا ہے- وہ مزاحمت کی بجائے گورا سرکار کے اس فیصلے کو تقدیر سمجھ کر احترام سے اپنے بڑوں کی باقیات کو دوسری جگہ دفن کرنا چاہتا ہے تاکہ باقی بستی انگریز سرکار کے جبر کا شکار نہ ہو پائے-

ناول کا مرکزی کردار "منگری" ہے جو بچپن سے ہی سیدا کے نکاح میں دی جا چکی ہے مگر اس کے باوجود نہایت ضدی اور من مانی کرنے والی ہے، جو بظاہر سیدا کو کچھ نہیں سمجھتی مگر خود پر اس کا ایک غائبانہ سایہ ضرور محسوس کرتی ہے- سنگری کا حسن اور اٹھتی جوانی بڑوں بڑوں کو سوچ میں ڈال دیتی ہے مگر سیدا کا اکھڑ مزاج ان سب کو نظریں نیچی رکھنے پر مجبور کیے رکھتا ہے- سنگری سیدا کے مزاج کو جانتے ہوئے بھی لاپروا اور بے اعتنائی لیے ہوئے چاہتی تھی کہ باقی مٹیاروں کی طرح اسے بھی بستی کے نوجوان چھیڑیں، راستہ روکیں اور آہیں بھریں- بلکہ ایک بار وہ وہ اپنی ماں سے اس خواہش کا بھی اظہار کرتی ہے کہ اسے کیوں کوئی اغوا نہیں کرتا؟ اس کی ماں جواباً ایک نہایت عقل مندی کی بات بتاتی ہے کہ،، "شادی تو نصیب والیوں کی ہوتی ہے میری دھی.... نکالی ہوئی لڑکیاں ڈیرے پر رہیں تو رکھیل اور چکلے کو بیچ دی جائیں تو رنڈی - ساری زندگی جوتے کھاتے گزرتی ہے اور مر جائیں تو کفن بھی نصیب نہیں ہوتا-"
مگر اس کے باوجود اس کی ضد اور ہٹ دھرمی ختم نہیں ہو پاتی اور پھر "سیدا" اس کی حرکات اور چند مشتعل کر دینے والی باتوں پر اسے اغوا کر کے اس مارتا پیٹتا ہے اور اس کی عزت لوٹ کر اسے عمر بھر ایک" امانت" نامی بچے کی ماں بن کر صرف اس کے لیے جیے جانے پر مجبور کر دیتا ہے- اسی زیادتی کے بدلے "سنگری" مرد کی حقیقت اور عورت کی بے بسی کو ایک نئے زاویے سے محسوس کرتی ہے- وہ اپنی ماں کو بتاتی ہے کہ، " عورت چاہتی ہے اس کے دل کو چیر کر اسے فتح کیا جائے مگر یہ حرامی اپنی آکڑ خانی قائم رکھنے کے چکر میں نہ دیکھ پاتے ہیں اور نہ سن پاتے ہیں، بس ترلے کرتے ہیں، تلوے چاٹتے ہیں اور پھر کچھ نہ بن سکے تو جانوں مار دیتے ہیں-" زمانے کے تلخ رویوں اور جینے کی قیمت چکانے اور معاشرے میں غیر محفوظ ہو جانے کے احساس نے اسے سکھایا کہ،" مرد تو وہ کام کا ہوتا ہے جو عورت کے ترلے نہ کرے، نیچے لگا کے رکھے مگر پیار سے- تھپڑ مارے مگر جوتا نہیں- خود بے شک مار مار کر نیلو نیل کر دے، چمڑی ادھیڑ دے مگر کسی اور کو انگلی نہ کھڑی کرنے دے- بستی کا وڈکا بھلے سے نہ ہو مگر وڈکوں جیسا ہو، وہ گالیاں بھی دے تو کانوں میں ماکھی ٹپکے، ظلم کرے تو اس پر پیار آئے- وہ قدم بھرے تو بھوئیں کو کانبا ہو- چاند نکلے تو وہ مشکی سانپ کی طرح کالا لگے اور رات کالی ہو تو وہ چاند بن جائے- پوہ میں ٹھنڈی لوری چلے یا ہاڑ میں تتی لو تو پورا پنڈ اس کی تانگھ میں ہوں ہوں کرنے لگے- بدل گرجے تو وہ یاد آئے اور دریا چڑھے تو اس کا سینہ سامنے ہو-"

ناول کے دیگر اہم کرداروں میں مولوی جاراللہ، جان برنٹن اور ولیم برنٹن بھی ہیں- بستی کی اکلوتی مسجد کا امام ہونے کے ناطے مولوی جاراللہ کے فتوے کو نظرانداز کرنے کی ہمت بستی کے کسی شخص میں نہیں ہے اور اسی بنیاد پر گورا سرکار اسے اپنے قابو میں لے کر اس کے دیے گئے فتوے سے رجوع کرواتی ہے اور مختلف لالچ دے کر اسے قبرستان کے مردوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ دفن کروانے کا فتوی دینے کی ذمہ داری بھی دی جاتی ہے- مزید مذہبی شخصیت ہونے کے باوجود وہ شہوت زدہ اور کئی خواتین کو نکاح میں رکھے ہونے کے باوجود "سنگری" کے حسن کے آگے پھڑک جاتا ہے اور اسے بھی اپنے نکاح میں لے لیتا ہے، جبکہ وہ جانتا ہے کہ سنگری کے پیٹ میں کسی اور کا بچہ پل رہا ہے- جان برنٹن، ہمت اور مشکل وقت میں ہمت نہ ہارنے والا شخص ہے جو اپنے حاسدین کی صف میں اپنے بیٹے ولیم کو بھی دیکھتا ہے مگر کچھ کر نہیں پاتا- وہ جھوٹے الزامات کا سامنا بہادری سے کرتا ہے مگر اپنی نوکری بچا نہیں پاتا- اور آخر میں دریا میں اٹھنے والا سیلاب بستی آدم واہن کے مکینوں کو تمام اختلافات اور جھگڑے بھلا کر پھر سے اکٹھا ہونے پر مجبور کرتا ہے، جس کی وجہ سے بستی کے نئے امام "ملا بخشو "کی بیوی "سنگری" اپنی امانت اس کے سپرد کر کے زندگی سے ہار جاتی ہے- لیکن اس کی امانت کو مولوی کا خاندان خیانت سمجھ کر قبول نہیں کرتا اور پھر "منگر" سنگری کی پیدا کی گئی تمام مصیبتوں کو بھلا کر اس کی امانت کو اپنے ذمے لے کر چل پڑتا ہے-

خطے کی تاریخ، اس دور کے حالات، معاشرے کی سوچ اور انسانی نفسیات کی پیچیدگیاں تو اس ناول میں موجود ہیں ہی، مگر ان کے ساتھ ساتھ مرد ذات کی خود ساختہ انا اور عزت نفس، جبکہ عورت کی ضد اور حد سے زیادہ ہٹ دھرمی کے بدلے پیدا ہونے والے اختلافات کو بھی نہایت مؤثر انداز سے اس ناول میں بیان کیا گیا ہے- اس کے علاوہ معاشرے میں بگاڑ کی وجہ بننے والے ان نام نہاد مذہبی لوگوں کا بھی اہم کردار ہے جو اپنے منصب کو قائم رکھنے کے لیے بدیسیوں سے بھی تعلقات قائم کرنے سے نہیں چوکتے اور شہوت کا شکار ہو کر اپنے اہم فرائض کو ثانوی درجہ دے دیا کرتے ہیں- دوسری جانب عوام بھی یوں جاہل بن چکی ہے کہ مذہب کے نام پر آنے والے ہر ایرے غیرے کی عقیدت میں اندھی ہو کر سچ کو ہی دفن کر دیا کرتی ہے- "انواسی" صرف سنگری ہی نہیں بلکہ وہ معاشرہ بھی ہے، جو کسی نہ کسی "سنگری" کی معصومیت کے درپے ہو کر اسے انواسی بناتا ہے- ندی کی طرح بہنے والے اس ناول میں کہیں کوئی بند نہیں اور قاری مسحور کن انداز میں اسے پڑھتا چلا جاتا ہے- مکالموں کی برجستگی اور مقامی و سرائیکی الفاظ کا بر محل استعمال اس ناول کو مزید خوبصورتی بخشتا ہے- محمد حامد سراج نے سچ ہی کہا تھا کہ،" انواسی پڑھ لیا اب میں کیا کروں بھائی؟ کیا مطالعہ کروں، کوئی کتاب من کو ہی نہیں لگ رہی-"
Profile Image for فیصل مجید.
188 reviews9 followers
December 26, 2022
ناول بڑا ہاتھی ہے جس کو کمرے میں بند کرنا ______ محمد حفیظ خان کے بس کی بات نہیں۔ بدقسمتی سے ایڈیٹوریل بورڈ کے نہ ہونے باعث ہر طرح کی چیز چھپ کر سامنے آرہی ہے۔ صرف دو وجوہات کی بناء پر۔ پبلشنگ خرچ مصنف خود اٹھا لیتا ہے اور مشہور شخصیات سے تعلقات کی وجہ سے تعریفی کلمات لکھوا لیتا ہے۔
Displaying 1 - 3 of 3 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.