غلام جیلانی برق ہمارے ضلع اٹک کے گاؤں بسال میں پیدا ہوئے. موصوف عمومی غریب گھرانے سے متعلق تھے اور روایتی دینی مدرسوں سے فارغ التحصیل ہوتے رہے. بعد میں انگریزی زبان الگ سے سیکھی اور مختلف نوکریوں کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی. یہ یاد رہے کہ غلام جیلانی برق ، ١٩٤٠ء میں برصغیر میں موجود معدودے پی ایچ ڈی اسکالروں میں سے ایک تھے. برق صاحب کی دینی اور دنیوی تعلیم کے اخلاط کا نتیجہ یہی ہے کہ ان کی اسلام کی طرف روایتی عالمین سے الگ گرفت ہے۔ یہ کتاب حکایتی رنگ میں رنگی نظر نہیں آتی. تحقیقی تصانیف کے میدان میں نام کمانے کے بعد ان سے داستان گوئی کی امید رکھنا عبث ہے. اپنی اس خود نوشت کا مقصد وہ خراب صحت کے باعث پروانہ اجل آنے سے پہلے اپنے قارئین کو اپنی ذات کی پوشیدہ پہلو دکھانا بیان کرتے ہیں۔ اپنے تدریسی سفر میں انھوں نے کئی مایہ ناز ہستیوں کو اپنے علم سے سرشار کیا. ان شخصیات میں کرنل محمد خان اور منو بھائی سرفہرست ہیں۔