اچھا تو بات کرتے ہیں صابر چوہدری کی کتاب زخموں کی ڈائری کے بارے میں، یہ کتاب خریدنے کی دو وجوہات تھی ایک تو کتاب کا سرورق بہت پسند آیا تھا(مصنف کی چاروں کتابوں کے سرورق بہت خوبصورت ہیں اور چاروں خریدنا چاہ رہی تھی، بچت ہوگئی) دوسرا ایک سطر جو کتاب کے سرورق پر موجود ہے "ویسے تو اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ اسے صابر چوہدری نے لکھا ہے" تو سوچا خریدتے ہیں، دیکھتے ہیں، پڑھتے ہیں پڑھنا شروع کی تو بڑی دقت ہوئی کہ چند ایک کہانیو کو چھوڑ کر ہر کہانی ان موضوعات پر تھی "ابا اماں کی آپس میں نہیں بنتی تھی" "بہت چھوٹی تھی ابا انتقال کر گئے" " گھر والوں کو بیٹیوں سے نفرت تھی" اور پھر ان حالات سے تنگ آکر لڑکی نے باہر سہارا ڈھونڈا جس نے اسے استعمال کیا اور دھوکہ دے دیا اب لڑکی اذیت میں ہے کوئی چالیس پچاس کہانیاں ہیں ان دو سو آٹھ صفحات کی کتاب میں اور پانچ سات کو چھوڑ کر سب یہی یعنی چیزوں کو بار بار بار بار دہرایا گیا ہے چونکہ مصنف ماہر نفسیات ہیں تو یقیناً یہ سب کہانیاں ان کے پاس آنے والے مریضوں کی دکھ بھری کہانیاں تھی میں کتاب کو ریٹ کرنا چاہوں تو بمشکل دو سے تین ستارے دے سکتی ہوں چودہ، پندرہ، سولہ سال کی بچیاں اگر پڑھنا چاہیں تو ان کے لیے میں کہتی ہوں یہ کتاب کسی کام آسکتی ہیں کہ یہ پڑھ کر انہیں کچھ اندازہ ہوگا کہ گھر کے باہر جو مرد آپ کو ملتا ہے وہ کس کس طرح سے آپ کو دھوکے میں رکھ سکتا اگر آپ کچھ سمجھ دار ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ کتاب پڑھنا وقت کا ضیاع ہے، اگر مجھے ریویو نا لکھنا ہوتا تو شاید پہلے بیس صفحات پڑھ کر ہی کتاب چھوڑ دیتی
3rd book by this author and didn't like it much. Getting monotonous. He is just keep telling one thing over and over again in different stories but real. I liked the first two books.