Jump to ratings and reviews
Rate this book

Sarguzasht / سرگزشت

Rate this book

336 pages, Paperback

Published December 1, 2016

5 people are currently reading
40 people want to read

About the author

Zulfiqar Ali Bukhari

4 books2 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
7 (53%)
4 stars
4 (30%)
3 stars
2 (15%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 5 of 5 reviews
Profile Image for Muhammad Ahmed.
56 reviews15 followers
April 6, 2020
23 مارچ 2020ء کو سندھ حکومت نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا اور سب لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھیں تاکہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے ۔ آج اپریل کی چار تاریخ ہے اور تا حال لاک ڈاؤن جاری ہے ۔

نہ جانے اس لاک ڈاؤن سے کتنے فائدے اور کتنے نقصانات ہوئے تاہم اس سے قطع نظر ذاتی حیثیت میں ہمیں یہ فائدہ ہوا کہ کچھ رُکے ہو ئے کام جو عدم مصروفیت کے باعث التویٰ کا شکار تھے، ہمارے کان میں کہنےلگے کہ اب تمہارے پاس کوئی بہانہ نہیں بچا۔

ا نہی بہت سے کاموں میں ایک کام وہ بھی تھا کہ جس کی تلقین ہم سارے زمانے کو کیا کرتے ہیں، یعنی کتب بینی۔ گو کہ ہم نے اب بھی اپنا تما م تر وقت کتب بینی کو نہیں دیا تاہم کچھ نہ کچھ آنسو پوچھنے کا سامان ہو ہی گیا۔

قصہ مختصر ، سید ذوالفقار علی بخاری کی آپ بیتی "سرگزشت" جو ہمارے زیرِ مطالعہ تھی اور جسے ہم مزے لے لے کر آہستہ آہستہ پڑھ رہے تھے، اُسے کچھ زیادہ وقت ملا اور ہم مکمل کتاب پڑھنے میں کامیاب ہو گئے، یا کتاب ہم سے جان چھرانے میں کامیاب ہو گئی۔

سرگزشت نہایت دلچسپ کتاب ہے ۔ فاضل مصنف نے یہ آپ بیتی بالکل غیر رسمی انداز میں لکھی ہے اور اس میں بے ساختگی کمال کی ہے ۔ تاہم غیر رسمی ہونے کے باوجود کتاب کے تمام تر مضامین باہم مربوط نظر آتے ہیں۔

اسے ان کتابوں کی فہرست میں رکھا جا سکتا ہے کہ جو ختم ہونے کے قریب آئیں تو دل میں ملال سا ہوا کہ یہ دلچسپ کتاب اب ختم ہو جائے گی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب "غبارِ خاطر" اور کچھ دیگر کتابوں کے اختتام پر بھی ہماری ایسی ہی کچھ کیفیت تھی۔ غبارِ خاطر میں اور اس کتاب میں ایک اور قدرِ مشترک باموقع فارسی اشعار کی شمولیت بھی ہے۔ فارسی اشعار ہماری سمجھ میں بامشکل ہی آتے ہیں ۔ لیکن مقامِ شکریہ رہا کہ غبارِ خاطر کی طرح اس کتاب کے آخر میں فارسی اشعار کی تشریح موجود نہیں تھی ورنہ یہ کتاب پڑھتے ہوئے بھی ہم نفسِ مضمون اور تفہیمِ شعر کی حسرت کے درمیان ہی معلق رہتے۔

مجھے اعتراف ہے کہ میں نے کافی عرصے بعد ایک بہت دلچسپ کتاب پڑھی اور اپنے وقت کا زیاں ہرگز محسوس نہیں ہوا۔

بخاری صاحب نے مضامین کو کوئی عنوان نہیں دیا بلکہ اُنہیں شمار کیا ہے اور اس اعتبار سے کتاب میں کل 55 مضامین ہیں۔ کتاب کے مضامین گو کہ کہانی کی صنف سے علاقہ نہیں رکھتے تاہم بخاری صاحب ہر مضمون کو نکتہ عروج یعنی کلائمیکس تک لے جاتے ہیں اور اکثر مضامین کا انجام افسانوں کے انجام کی طرح ہوتا ہے اور قاری کتاب ہاتھ میں لیے سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ مضامین فکشن نہیں ہیں تاہم فکشن سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں۔ خاکسار کی رائے میں ایسا طرزِ تحریر قسمت والوں کو ہی میسر آتا ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی کتاب میں شاذ ہی یہ گمان ہوتا ہے کہ کوئی بات دُہرائی جا رہی ہے۔ ورنہ اکثر آپ بیتیاں مکر ر ارشاد سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ لوگ اُلٹ پھیر کر وہی مضامین بیان کرتے چلتے جاتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ بخاری صاحب نے بڑی بھرپور زندگی گزار ی ہے اور ریڈیو جیسے محکمے میں جو اُس وقت بے حد اہمیت کا حامل تھا ایک اہم عہدے پر فائز رہے اور سرگرم طبعیت کے باعث ہمہ وقت پر عزم اور مصروف عمل رہے ۔

بہرکیف کتاب انتہائی پرلطف ہے اور اس بات کی متقاضی ہے کہ اپنا قیمتی وقت اس کے لئے نکالا جائے۔
Profile Image for Dr Tanzeel.
84 reviews4 followers
March 25, 2018
not so impressive....I gave it one extra star for its nice urdu prose
Profile Image for Sheezy.
3 reviews1 follower
December 17, 2023
کتاب: سرگُزشت
صفحات: 535
مصنف : سید ذوالفقار علی بخاری(زیڈ اے بخاری)

ویسے تو زیادہ تر مَیں نان فکشن کتابوں سے نگاہیں بچا کر گزر جاتی ہوں لیکن اگر کتاب یادداشتوں، خطوط، یا سوانح حیات ہوں تو مجھے انہیں پڑھنے میں بے حد لطف آتا ہے۔
ایسی ہی ایک پُر لطف سوانح حیات پچھلے دنوں میری اچھی دوست رہی ہے۔
ریڈیو کے زیڈ اے بخاری کا پورا نام سید ذوالفقار علی بخاری تھا، وہ 1904ء میں پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ بخاری صاحب کو بچپن ہی سے اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے کا شوق تھا چنانچہ انہوں نے پہلی مرتبہ شملہ میں امتیاز علی تاج‘ کے مشہور ڈرامے ’’انارکلی‘‘ میں سلیم کا کردار ادا کیا اور خوب داد تحسین حاصل کی۔اس کے بعد 1936ء میں جب آل انڈیا ریڈیو کا قیام عمل میں آیا تو بخاری صاحب ریڈیو سے منسلک ہوگئے۔اور یہی جگہ ان کے شب و روز بن گئی۔بخاری صاحب کو شعر و ادب سے شغف ورثے میں ملا تھا۔ ان کے والد اسد اللہ شاہ بخاری صاحبِ دیوان نعت گو شاعر تھے۔ بڑے بھائی پطرس بخاری اردو کے صاحبِ طرز ادیب اور ماہر تعلیم تھے۔
سو ورثے میں ملی اس بیش بہا دولت سے انہوں نے بہت نام کمایا وہ ناصرف ماہر نشریات تھے بلکہ صداکار بھی اعلی تھے۔اس کے علاوہ انہیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔غالب، سعدی کے بڑے مداح تھے اس کا انداز آپ اس کتاب میں موجود اشعار سے بخوبی لگا سکیں گے۔
ان کی یہ خود نوشت 1966 میں کتابی شکل میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب میں کل 55 مضامین ہیں، جو بغیر عنوان کے ہیں ۔لیکن ہر صفحے میں طنز و مزاح لیے ہوئے بہت سی چیزوں کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ اسکے علاوہ ایک صحافی کو کن کن مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔اور اس کی جان یا دماغی سکون کو کیسے کیسے تباہ کیا جاتا ہے آپ یہ کتاب پڑھ کے بخوبی جان پائیں۔موسیقی کے اندازوں سے لے کر راگوں کی کئی اقسام اس کے علاوہ موسیقی آلات، برصغیر اور مغربی کی کئی نامور شخصیات، اداکار، موسیقار، ادیب، شعراء سے بخاری سب آپ کی ملاقات کروائیں گے۔وہ بھی اتنے خوبصورت انداز میں کہ آپ کو اپنی زبان سے محبت ہوجائے۔
بے حد دلچسپ کتاب اور بےساختگی تو کمال ہے اس کتاب کی آپ کہیں بھی ایک لمحہ نہ بور ہونے پائیں گے۔
بہرکیف کتاب بہت پُر لطف ہے اور اس بات کا حق رکھتی ہے کہ اپنے قیمتی وقت سے کچھ لمحے نکال کر اس میں گم ہوا جائے ایسے کہ ہر صفحے سے کوئی نا کوئی قمیتی موتی آپ کے ہاتھ لگے۔

شیزے شاہد محمود
27 reviews9 followers
May 4, 2019
It feel like a contemporary relatable piece of writing portraying pre partition muslims so authentically. He is able to talk of hindu bias and contempt towards muslims so clearly no diplomacy.His life was such an adventure. He lived most of his life with goras yet was able to joke about them and people of india so well. His grip on persian literature is fascinating. He probably took alot of pride in it. His account of urdu writers and literary life reminds me of the salons in Paris. His account of Eid in Peshawar is sublime. His radio broadcasting stories are funny yet so real. Wah
Displaying 1 - 5 of 5 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.