Rapunzel by Tanzeela Riaz is a sociocultural romantic Urdu novel. The novel, started in July 2015 and being serialized in monthly Kiran Digest has already captured huge readership. The story starts with father telling bed time story to his daughter, which is famous German fairytale Rapunzel. With the development of story of the novel, readers will gradually find out who is the Repunzel of this Novel.
Tanzeela Riaz is a well-known and respectable name among Women Writers and Urdu Digest Readers. She has a unique writing style and chooses different topics for her novels. She has written 10 books so far like Khwab Gharonda Toot Na Jae, Kuch Ishq Tha Kuch Majboori Thi, Dasht-e-Zulmat Mein, Min Shar-e-Maa Khalaq, Naarasayi Say Paarsayi Tak, Aik Mein Aur Aik Tum, Suraj Kab Ruka Hai, Adam ka Fasana Hai Duniya, Yahi Mera Hawala Hai, Merg-e-Berg.
Tanzeela Riaz is an Urdu fiction writer from Pakistan who writes on Social, Ethical, Moral and Political problems of the country. She is one of those writers who can skilfully deliver on difficult and touchy subjects.
تنزیلہ ریاض کا "راپنزل" ڈزنی کی کوئی فیری ٹیل نہیں بلکہ حقیقتوں کا ایسا مجموعہ ہے جو ہم میں سے ہر کوئی کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں اپنی زندگی میں ضرور فیس کرتا ہے۔ تنزیلہ ریاض کو پڑھنے کا یہ میرا دوسرا تجربہ ہے، اور جہاں ناول کے آغاز میں کچھ مایوسی کا سامنا تھا، وہیں کہانی کے آگے بڑھنے پر میرے تمام اعتراضات دم توڑنے لگے جب کہانی کا مرکزی موضوع مجھ پر واضح ہوا۔
اپنی ذات کے قلعے میں بند کونین کاشف نثار عرف نینا کو بچپن ہی سے ماں باپ کا وہ پیار نہ ملا جس کا ہر بچہ حق دار ہوتا ہے۔ نینا کے لہجے کی کرواہٹ جو ہر ایک کو زچ کیے رکھتی تھی، اس کی مسخ شدہ شخصیت کی بھرپور عکاسی تھی، جسے محض چند کردار ہی سمجھ پائے۔
کہتے ہیں شوہر کی محبت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی بیوی بیمار ہو، اور بیوی کی محبت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب شوہر بدترین مالی حالات سے گزر رہا ہو۔ پہلی بات ہر طرح سے سمیع رندھاوا کے کردار پر پوری اترتی ہے۔ سمیع کی شہرین کے لیے محبت اور وفاداری قابلِ رشک تھی، جو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔
صوفیہ جیسی بہت سی عورتیں ہمیں اپنے اردگرد دیکھنے کو ملتی ہیں، جو اپنا گھر بچانے کے چکر میں جانے کیا کچھ نہیں سہتیں۔ ہر حال میں شوہر کا پردہ رکھنا اور جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس کی ہر بات پر آنکھ بند کر کے اعتبار کر لینا۔ ایکسٹرا میریٹل افیئرز جیسی گندی بیماری گھروں کے گھر برباد کر دیتی ہے، اور اس کے سنگین نتائج سانپ کی طرح پھن پھیلائے جب یکدم سامنے آتے ہیں، تو تب تک پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور سوائے ملال اور تاسف کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
سب سے زیادہ جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ مصنفہ کا وہ انداز تھا جس میں انہوں نے ایسے واقعات اور کرداروں کو پیش کیا جو حقیقت سے اتنے قریب تھے کہ مجھے یہ طے کرنے میں ذرا مشکل پیش نہ آئی کہ میری زندگی میں ایسے کردار کہاں موجود ہیں۔ الفاظ کا چناؤ بھی ایسا تھا کہ یوں لگا جیسے میں نے بھی یہ سب پہلے کہیں سن رکھا ہے۔
سب سے زیادہ مجھے جس چیز سے چڑ ہے وہ ہے کتاب کی اچھے سے نہ کی گئی پروف ریڈنگ۔ جگہ جگہ املا اور الفاظ کی غلطیوں سے پڑھتے پڑھتے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بریانی کھاتے وقت منہ میں الائچی آ جائے۔ یہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں کہانی کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہیں اور قاری کی توجہ بھٹکاتی ہیں۔ پروف ریڈنگ کے ساتھ ساتھ، کچھ سینز نہایت بورنگ بھی تھے جو کہانی کو خومخواہ طویل کر دیتے ہیں۔ ان مناظر نے ناول کی روانی کو متاثر کیا اور ایسے سینز کبھی کبھار قاری کی کہانی میں دلچسپی کو کم کر دیتے ہیں۔
"راپنزل" صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ یہ ہمارے معاشرے میں موجود تلخ حقیقتوں کی عکاسی ہے۔ اس میں موجود کردار ہمارے آس پاس کے لوگوں کی طرح ہیں، جن کی زندگیوں میں محبت، وفاداری، اور بے وفائی کے مختلف رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ ناول میں سمیع اور شہرین کی محبت، اور وفاداری کا قیمتی جذبہ نمایاں ہے، جبکہ کاشف اور صوفیہ کے درمیان بے وفائی کی کہانی ایک سبق آموز حقیقت کی طرح سامنے آتی ہے۔ مصنفہ تنزیلہ ریاض نے اس ناول کے ذریعے معاشرتی مسائل کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے، جس میں ہر قاری اپنی زندگی کی جھلک دیکھ سکتا ہے۔ تاہم، پروف ریڈنگ کی خامیوں اور کچھ غیر ضروری مناظر کی وجہ سے، کہانی کا اثر کچھ حد تک کم ہو جاتا ہے، جو کہ ایک بڑی کمی محسوس ہوتی ہے۔
Beautiful! The story depicts the effect of loyalty on us and the people surrounding us. Unbelievably as I usually don't read such looong novels during busy times, I read this during the finals and even continued reading it 10 mins before the start of an exam in the examination hall! No doubt the story is captivating and really encouraging to finish asap. So, now I have to stop procrastinating my studies and FOCUS!🙂 The concept is quite typical but presented in a beautiful language and the characters are nice too except the bad ones, of course😏 The happy ending was really satisfying especially for Naina who had enough suffering throughout the story. I like happy endings and I give such stories a plus ⭐.
************ An interesting phrase from the novel that I read for the first time: "Ghar ghusni" I loved this phrase and definitely gonna use it😂 as we all are becoming "ghar ghusne" these days😁😂
اولاد کی زندگی میں والدین عملی نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں، اسی لیے اولاد کی تربیت میں والدین کے الفاظ سے زیادہ ان کا رویہ اور کردار اہم ہوتا ہے۔ والدین میں سے کسی ایک فریق کا بھی اولاد کے ساتھ ہتک آمیز رویہ یا پھر رنگین مزاج ہونا اولاد کی شخصیت میں ایسی محرومیاں پیدا کر دیتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ کبھی بھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ بڑھتی جاتی ہیں اور مستقل حیثیت اختیار کر لیتی ہیں اور ایسے لوگ احساس کمتری کا شکار ہو کر خود کو اپنی ذات کے قلعے میں محصور کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ دوست بناتے ہوئے ڈرتے ہیں اور خود کو کسی بھی قسم کے تعلق کے قابل نہیں سمجھتے۔ بچپن میں والدین کی طرف سے ملی دھتکار ان کی شخصیت میں ایسی توڑ پھوڑ کر دیتی ہے کہ بعد کی پوری زندگی وہ اپنے وجود کی کرچیاں سمیٹنے میں اپنے ہاتھ لہولہان کرتے رہتے ہیں مگر اذیت کے سوا ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا۔
راپنزل ہر اس لڑکی کی کہانی ہے جو اپنوں کی بے اعتنائی اور ناروا سلوک کی وجہ سے ساری دنیا سے کٹ کر خود کو اپنی ذات کے قلعے میں محصور کر لیتی ہے، جس کو اس قلعے سے نکالنے کے لیے کوئی شہزادہ نہیں آتا کیونکہ حقیقی زندگی میں شہزادے کہاں آیا کرتے ہیں؟ حقیقی زندگی میں سب کو اپنی بقا کی جنگ خود ہی لڑنی پڑتی ہے۔
اس ناول میں مصنفہ نے شادی شدہ مرد کی باوفا اور ہرجائی طبیعت کو موضوع بنایا ہے اور اس کی یہ فطرت اس کے گھر خصوصا اولاد کو کیسے متاثر کرتی ہے، اسے بہت اچھے انداز میں بیان کیا ہے۔ آج کل کے ماڈرن زمانے میں دوستی اور ورک ریلیشن کے نام پر مردوں کے ایکسٹرا میریٹل افیئرز ہونا ایک رواج بن چکا ہے، مگر یہ رواج کیسے آنے والی نسلوں کو کھوکھلا اور تباہ کر رہا ہے اس ناول میں بخوبی بتایا گیا ہے۔
وفا رشتوں کے لیے آکسیجن کا کام کرتی ہے جبکہ بے وفائی رشتوں کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہے۔ مگر جب تک اس بات کا احساس ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
تنزیلہ ریاض کا ناول "راپنزیل" مجھے ان کے دوسرے ناول عہدِ الست کی طرح بہت اچھا لگا۔ ناول کا نام "راپنزیل" سن کر لگتا ہے جیسے یہ کوئی یہ کوئی فیری ٹیل ہوگی لیکن حقیقتاً یہ کہانی سماجی مسائل پر مبنی ہے۔ جس کو مصنفہ نے بہت خوبصورت انداز میں لکھا ہے۔
جب میں نے اس ناول کو شروع کیا تھا تب ہی پتہ چل گیا تھا کہ یہ میرا پسندیدہ ناول ہوگا۔ اس ناول کو پڑھ کر مجھے بہت خوشی ملی ہے اور ساتھ ہی یہ ایک ایموشنل رائڈ بھی تھا۔
ناول کی کہانی بہت اچھی طرح سے بُنی ہوئی ہے اور کردار بہت خوبصورتی سے تخلیق کیے گئے ہیں۔ ناول کا ہر کردار بہت زیادہ ریلیٹ ایبل اور حقیقت پر مبنی ہے۔ خاص طور پر نینا کا کردار اس کے ساتھ میں روئی بھی ہوں اور ہنسی بھی ہوں۔اس کے علاؤہ کاشف کا کردار جو کہ تھا ہی بہت ہی برا ، لیکن اس کے باوجود مجھے سب سے زیادہ غصہ جس پر آیا وہ تھا صوفیہ کا کردار۔ لیکن یہ بھی ہے کہ ہماری معاشرے میں بہت سے کاشف اور صوفیہ موجود ہیں۔ یہ ناول ہماری معاشرے کی حقیقت کو بہت ہی اچھی طرح سے پیش کرتا ہے۔
ناول میں مصنفہ نے وفاداری اور بے وفائی کو انتہائی سطح پر ایک ساتھ بہت خوبصورتی سے دکھایا ہے۔ یہ ناول ہر قاری کو اپنی زندگی کی جھلک دکھاتا ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو آپ کو اپنے کرداروں کے ساتھ جڑنے پر مجبور کر دے گی۔ میں اس ناول کو ہر کسی کو پڑھنے کی تجویز کروں گی جو سماجی مسائل پر مبنی کہانیوں کو پسند کرتے ہیں