Ibn-e-Safi (also spelled as Ibne Safi) (Urdu: ابنِ صفی) was the pen name of Asrar Ahmad (Urdu: اسرار احمد), a best-selling and prolific fiction writer, novelist and poet of Urdu from Pakistan. The word Ibn-e-Safi is an Arabian expression which literally means Son of Safi, where the word Safi means chaste or righteous. He wrote from the 1940s in India, and later Pakistan after the partition of British India in 1947.
His main works were the 126-book series Jasoosi Dunya (The Spy World) and the 120-book Imran Series, with a small canon of satirical works and poetry. His novels were characterized by a blend of mystery, adventure, suspense, violence, romance and comedy, achieving massive popularity across a broad readership in South Asia.
حمید کو ایک بڑی مچھلی اور بکری کے بچے کا سر لانے کے لئے بھیجا گیا جو صرف چند ڈائیلاگ کے وقفے سے ایک ہی صفحے میں یہ دونوں چیزیں خرید کر واپس بھی پہنچ آتا ہے۔ یعنی قاری کے شعور اور عقل کا کوئی پاس نہیں رکھا گیا۔ اگر یہ ہی لکھ دیا جاتا کہ اسی طرح گفتگو کرتے جب کافی وقت گزر گیا۔ فریدی سوچ ہی رہا تھا کہ حمید نہیں آیا جب اس نے حمید کی چہکتی ہوئی آواز سنی اور وہ مسکرا دیا۔ یعنی کہ دسمبر کی سرد رات میں کسی گھر میں چوری چھپے داخل ہونا ہے تو دونوں جوان اوور کوٹ اور ایسے جوتے پہن کر آئے جو انہیں دیوار یا پائپ پر چڑھنے سے پہلے اتارنے پڑے۔ بہت خوب۔ دوسری بار پروفیسر درانی کے گھر بھی رات میں پہنچے جہاں انہیں زمین پر رینگ کر بڑھنا ہے وہاں بھی دونوں جوان سوٹ اور ٹائیاں زیب تن کر کے پہنچے ہیں اور تو اور کوٹ کی جیب میں رومال بھی سجایا ہوا ہے جو حمید نے بیہوش آدمی کے منہ میں ٹھونس دیا۔ جی تو فریدی نے ایک ہاتھ لڑکی کے منہ پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے ڈائری نکال کر اپنی جیب میں ڈال لی۔ ٹھیک۔ لیکن جب لڑکی کو کندھے پر ڈال لیا تو پھر بھی ایک ہاتھ سے کیسے اس کا منہ بند رکھا؟؟؟ بہرحال ایک بات ہے کہ ابن صفی نے اس وقت اس طرح کے میک اپ کا تصور دیا جب ابھی ٹام کروز شائد سکول میں پڑھتا تھا۔
ابن صفی صاحب کی جاسوسی دنیا سیریز کا یہ جوبلی نمبر تھا اور عمومی ناولز کی نسبت اس کا حجم زیادہ تھا۔ یہاں گارساں، شلائر اور فریڈرک جیسی منفی قوتیں انسپکٹر فریدی، سرجنٹ حمید، کرائم رپورٹرز انور اور رشیدہ سے بر سر پیکار رہیں۔ حمید صاحب کی چلبلی حرکتوں اور چبھتے جملوں نے ناول کو مزید دلکش بنایا۔ یہاں پروفیسر چوہدری اور پروفیسر درانی جیسے سائنسدان کسی اہم زہریلی گیس کے فارمولے کو بچاتے بچاتے چل بسے۔ مجموعی طور پہ یہ بھی انتہائ متاثر کن ناول تھا۔