Jump to ratings and reviews
Rate this book

Mazameen e Saleem Ahmed / مضامین سلیم احمد

Rate this book

878 pages, Hardcover

Published January 1, 2009

8 people are currently reading
54 people want to read

About the author

Saleem Ahmad

17 books10 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
3 (21%)
4 stars
8 (57%)
3 stars
1 (7%)
2 stars
0 (0%)
1 star
2 (14%)
Displaying 1 - 2 of 2 reviews
115 reviews67 followers
November 5, 2018
عموما نقادوں کی ادبی تنقیدوں میں ادب عنقا ہوتا ہے مگر سلیم صاحب کی نثر میں کمال کی ادبی چاشنی ہے، ، انداز میں دھیمے دھیمے طنز و مزاح کا تڑکہ بھی ہے۔ اپنے استاد حسن عسکری کے سوا سب پر بے باک تبصرہ کرتے ہیں۔ ادب کو روایت اور مکمل انسان سے جیسے انھوں نے جوڑ کر دکھایا ہے وہ کمال ہے۔ انھی کو پڑھ کر سمجھ آئی کہ ادب کیا ہوتا ہے، وہ کیسے اور کیوں تخلیق ہوتا ہے، اس کا انسان ہونے سے کیا تعلق ہے۔ہمیں سمجھ آتی ہے کہ جدیدیت نے کیسے ہماری سماج کو ہر انداز سے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا، اسی توڑ پھوڑ کی جھلکیاں ہمیں ادب میں بھی نظر آتی ہیں۔ ادیب اپنی حساسیت سے اپنے دور کی نبض پڑھ لیتا ہے۔ غالب نے سرسید سے بہت پہلے یہ سمجھ لیا کہ اب پرانا دور ختم، ہونے والا ہے۔
جدیدیت کے آتے ہی خدا کی موت کے ساتھ ہی مکمل انسان کی موت بھی ہوگئی۔ اب صرف کثری انسان موجود ہیں۔ ایسا انسان جس کی زندگی کئی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ اس کا پورا علم بھی ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے۔ وہ بیک وقت حیاتیاتی، نفسیاتی، عقلی ، جذباتی، سیاسی ، معاشی ، سماجی ، مذہبی ، اور جانے کیا کیا ہے۔ وہ اپنے ان مختلف حصوں کی ضرورتوں کے لحاظ سے سوچتے سوچتے اتنا بٹ جاتا ہے کہ انسان ہونے کا جوہر مر جاتا ہے۔کثری انسان کا پیدا کیا ہوا ادب بھی ادھورا اور کثری ہوتا ہے۔ وہ نظریے کے تحت ادب لکھتا اور پڑھتا ہے۔ وہ کبھی اخلاقیات کی عینک سے ادب لکھتا ہے، تو کبھی قوم کی اصلاح کے لیے ، کبھی محبت کے لیے ، کبھی لبرل ازم اور انسان دوستی کے لیے، کبھی مارکسسزم کے لیے۔
جدیدیت سے پہلے کا انسان اور ادب مکمل تھا ، اسی لیے میر مکمل انسان اور غالب اس دوراہے پر ہیں جو کثریت کو اپنے اندر محسوس کرتے ہیں۔ غالب کے بعد کے تمام شعرا میں یہی کثریت نظر آتی ہے۔ سب ادھورے اور نامکمل انسان تھے ان کی شاعری ان کی شخصی خامیوں اور کمیوں کا مداوا کرنے کی کوشش تھی۔ اپنے اندر کے نامکمل پن کا مداوا انھوں نے قوم کی اصلاح کرنے میں ڈھونڈا۔
مولانا حالی نوجوانی میں شادی سے بھاگ گئے تھے۔ یہی شرمندگی انھیں ساری زندگی عشق اور غزل کی مخالفت پر آمادی کرتی رہی۔ اقبال کی عائلی زندگی کی ناآسوسگی ہمیں ان کی شاعری میں وصال سے زیادہ فراق کی خواہش میں نظر آتی ہے۔
سلیم احمد سمجھتے ہیں کہ خدا ، مکمل انسان کی موت کے بعد اب ادب کی موت ہونا بھی لازمی ہے۔ کیونکہ یہ تینوں چیزیں لازم ہیں۔
اس لیے اب ہم ادب کی موت کے دور میں جی رہے ہیں۔

یہ کتاب ریختہ پر آن لائن ریڈنگ کے لیے میسر ہے
https://www.rekhta.org/ebooks/mazamee...
Profile Image for Shumail Hassan.
6 reviews16 followers
November 4, 2018
A substantive critique on Urdu poetry and the conventional critics. Saleem Ahmad is recommended for those who have read Iqbal, Ghalib and Mir Taqi.
The takeaways were Akhtar Hussain Raipuri, Mumtaz Hussain, Majnun Gorakhpuri, Muhammad Hassan Askari and Nazar Muhammad (N. M.) Rashid.
Displaying 1 - 2 of 2 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.