Jump to ratings and reviews

Khawab Gar / خواب گر

خواب گر جھیل سدپارہ کے اردگرد آباد حسین پہاڑی بستیوں اور ان کے سادہ و پُرخلوص باسیوں کے طرزِزندگی کی عکاسی کرتا ایک منفرد تجربہ ہے۔ کسی صورت سفرنامہ نہ ہونے کے باوجود، آپ دھند اور کہرے میں، برف زاروں میں دھنسے، ٹیڑھی میڑھی پہاڑی پگڈنڈیوں پر، الطاف فاطمہ کے قلم کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے پہلے بامِ دنیا یعنی بلتستان اور سکردو کی بلندیوں سے اتر کر لداخ اور سکم کے درّوں پر پیدل رواں،شملہ اور پھر میدانوں میں لاہور جیسے شہروں میں پہنچ کر رزق کی تلاش میں بھٹکتے ان بلتی مسافروں کی داستان جو سال ہا سال گھر کی شکل دیکھنے کو ترستے، اپنی زمین سے دُور لیکن اپنی جڑوں سے پیوست رہتے۔ ایک خواب کی تعبیر کے منتظر ”خواب گر“ کے رتجگوں کی کہانی۔

272 pages, Hardcover

First published January 1, 2005

Loading...
Loading...

About the author

Altaf Fatima

19 books23 followers
Altaf Fatima (born 1927 in Lucknow, British India) was an Urdu novelist, short-story writer, and teacher (specializing in Muhammad Iqbal). Her novel Dastak Na Do ("Do not knock") is regarded as one of the defining works in the Urdu language. An adaptation was presented on Pakistan television and an abridged translation was serialised by the Karachi monthly, Herald.

Altaf Fatima was the second of four children born in a Muslim household in Lucknow, India, to Mohammad Fazle Amin and his wife Mumtaz Jahan.

She was living in Lahore, Pakistan at the end of her life, to where she had retired as a professor of Urdu, but continued her literary work.

Altaf Fatima's novel Dastak Na Do has been translated into English by Rukhsana Ahmed.

Ratings & Reviews

What do you think?

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
8 (53%)
4 stars
6 (40%)
3 stars
1 (6%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 7 of 7 reviews
Profile Image for Shabana Mukhtar.
Author 82 books183 followers
October 29, 2018
Review of Khwab Gar by Altaf Fatima

خواب گر
مسلسل، تقریباً ہر صفحہ پر ہر کردار ماضی اور حال میں بیک وقت جی رہا ہے۔ کہانی کا تسلسل ٹوٹتا جاتا ہے۔

This has been sitting in my TBR.
In my attempt to clean the TBR shelf and bring it down to less than 50 books. I have read this one. It was a slow read. But beautifully written.

Profile Image for Salman Khalid.
106 reviews80 followers
January 13, 2020
اکثر نام بڑے، درشن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ الطاف فاطمہ کے معاملے میں یہ بات الٹ ہے۔ یہاں کام بڑا ہے مگر نام گم ہے۔ اب تک الطاف فاطمہ کے دو ناولز پڑھے ہیں اور دونوں پسند آئے ہیں۔ ۔ ۔ مگر شاید یہ میرے ساتھ ہی ہے یا سب کے ساتھ کہ دونوں کے شروع میں یہ پوری کوشش کی گئی ہے کہ قاری اکتا کر کتاب بند کر دے اور آگے نہ پڑھے۔ اس کتاب کو بھی بمشکل گھسیٹ گھسوٹ کر آدھے تک لایا۔ ۔ ۔ ارادہ تھا کہ بس دو ستارے ہی دوں گا مگر جب کہانی 'فلو' میں آئی تو مہندی کی طرح آہستہ آہستہ رنگ چھوڑتی گئی۔ جب مکمل پڑھ لی تو ارادہ بدل گیا۔ دستک نہ دو کی طرح اس ناول میں بھی گھر، رشتے ناطے اور وطن کو اہمیت حاصل ہے
Profile Image for Shahzina Shafi.
82 reviews6 followers
May 6, 2026
ابراہیم : "میں خواب گر ہوں علی مردان!
تم اور تمہارے بچے خواب گیر ہوں گے۔"

ذرا تصور کریں، بامِ دنیا (بلتورو) کے ایک قصبے ( تھلے لا) کا ایک محنتی، عالی ظرف، جفاکش انسان جو اپنے ملک کی غربت اور عسرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر، اپنے خاندان کی کفالت کی خاطر، اپنا گھر بار چھوڑ کر نیچے میدانی علاقوں میں آ کر محنت کرتا ہے، زمانے کی سختیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ہمسفر کی بے وفائی کو بھی انتہائی اعلیٰ ظرفی کے ساتھ برداشت کرتا ہے اور کچھ خواب بنتا ہے۔ ایسے حالات جن میں انسان خواب تو کیا، جینے کی اُمنگ تک چھوڑ دیتا ہے، یہ عالی حوصلہ انسان اپنی آنے والی نسل کو لے کر کچھ خوش آئند خیال بنتا ہے جسے اس کی نسل انتہائی محنت سے پورا کرتی ہے۔

قیام پاکستان سے چند سال پہلے کی یہ کہانی شمال سرحدی علاقوں کے لوگوں کی مشکلات، طرز زندگی، ثقافت، رسم و رواج اور مزاج و عادات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ اس وقت کے حالات بیان کرتی ہے جب یہ علاقے انتہائی پسماندہ تھے، لوگ بنیادی ضروریات سے محروم تھے، غربت اور نمک کی کمی باعث جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتے تھے۔ اپنے خاندان کی کفالت کی خاطر صدیوں سے چلی آ رہی روایت کے مطابق اپنا گھر بار چھوڑ کر ابراہیم بھی روزگار کی تلاش میں میدانی علاقوں کا رخ کرتا ہے مگر وہ پہلا انسان ہوتا ہے جو اس روایت کو توڑنے اور اپنی نئی نسل کے حالات بدلنے کے خواب بھی دیکھتا ہے۔ جسے اس کی دوسری نسل شرمندۂ تعبیر کرتی ہے۔

اس کہانی میں پہلی بار "غیرت" کو ایک نئے مگر صحیح تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ شمال سرحدی علاقوں میں پسند کی شادی کرنے پر یا کسی کو صرف پسند کرنے پر ہی "غیرت" کے نام پر قتل کر دیا جانا اب ایک عام سی بات بن چکی ہے۔ آئے دن ہم ایسا کوئی نہ کوئی واقعہ سنتے، پڑھتے یا دیکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ غیرت نہیں بلکہ انا اور انتقام کے نام پر قتل ہوتا ہے۔ اصل غیرت اور مردانگی وہ ہے جس کا مظاہرہ ابراہیم اور علی مردان نے کیا، جب ان کی ہمسفر نے ان سے بے وفائی کی، تو انہوں نے اسلام کے بتائے ہوئے طریقے یعنی احسن طریقے سے انہیں اپنی زندگی سے الگ گر دیا۔ لعنت ملامت اور کردار کشی کر کے انہیں پورے علاقے میں ذلیل و رسوا نہیں کیا اور نہ ہی اپنی انا کا پرچم بلند رکھنے کے لیے انہیں قتل کرنے یا کروانے کی کوشش کی۔ انہیں اس بات کا بھی احساس تھا کہ شادی کے بعد بیوی کو ایک جذباتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور جب شوہر نا معلوم عرصے کے لیے بیوی کو اکیلا چھوڑ کر چلا جائے اور آپس میں کوئی رابطہ بھی نا ہو تو ایسی صورت میں عورت جذباتی سہارے کی تلاش میں، کسی کمزور لمحے کی زد میں آ کر ایسی غلطی کر سکتی ہے جس کی سزا خود سے علیحدگی تو ہو سکتی ہے مگر قتل اور وہ بھی نام نہاد غیرت کے نام پر، ہرگز نہیں۔ ہم بحیثیت انسان کسی دوسرے انسان کی کسی بھی غلطی یا گناہ پر اس کی جان لینے کا حق نہیں رکھتے اور نہ ہی اسے جسٹیفائی کر سکتے ہیں۔ یہ ایک بالکل غلط روایت بن چکی ہے۔ جس کو روکنے یا ختم کرنے کے بارے میں نہ کوئی بات کرتا ہے اور نہ کوشش۔
Profile Image for Rabia.
249 reviews68 followers
August 29, 2026
خواب گر — الطاف فاطمہ

کچھ ناول ختم ہو کر بھی ختم نہیں ہوتے۔
وہ کتاب بند کرنے کے بعد بھی کہیں اندر چلتے رہتے ہیں۔ خواب گر میرے لیے ایسی ہی کتاب تھی۔

الطاف فاطمہ نے اس ناول میں صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں لکھی، بلکہ ہجرت، غربت، محبت، جدائی، محرومی اور سب سے بڑھ کر خواب دیکھنے کی انسانی خواہش کو بہت خوبصورتی سے سمیٹا ہے۔

ابراہیم کا سفر صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا سفر نہیں۔ یہ اپنے حالات سے لڑنے، اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل بنانے اور ان خوابوں کو زندہ رکھنے کا سفر ہے جو شاید اس کی اپنی زندگی میں پورے نہ ہو سکے۔

اور پھر وہ خواب علی مردان تک پہنچتے ہیں۔

“علی مردان، میں خواب گر ہوں، تمہارے بچے خواب گیر ہوں گے۔”

اس ایک جملے میں مجھے پورا ناول سمٹا ہوا محسوس ہوا۔

ایک نسل خواب دیکھتی ہے، دوسری نسل ان خوابوں کو تھامتی ہے اور شاید تیسری نسل انہیں حقیقت بنانے کی کوشش کرتی ہے۔

ناول کی سب سے خوبصورت بات اس کے کرداروں کی خاموش جدوجہد ہے۔ یہاں کوئی بہت بلند آواز میں اپنے دکھ نہیں سناتا۔ لوگ بس جیتے ہیں، بچھڑتے ہیں، ہجرت کرتے ہیں، محبت کرتے ہیں اور اپنے حصے کے خواب اگلی نسل کو دے جاتے ہیں۔

اور شاید اس ناول کا ایک اہم اور آج کے معاشرے کے لیے بہت معنی خیز پیغام رشتوں اور جدائی کے حوالے سے بھی ہے۔

ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں آج بھی بعض اوقات عورت کی زندگی کو نام نہاد عزت کے نام پر ختم کر دیا جاتا ہے۔ جہاں ایک رشتہ ختم ہونا زندگی ختم ہونے کے برابر سمجھ لیا جاتا ہے۔ خواب گر ہمیں اس کے بالکل برعکس ایک راستہ دکھاتا ہے: اگر دو انسان ایک ساتھ نہیں چل سکتے تو اپنے راستے الگ کیے جا سکتے ہیں، بغیر ایک دوسرے کو قتل کیے، بغیر نقصان پہنچائے، بغیر کسی کی زندگی چھینے۔

ہر جدائی دشمنی نہیں ہوتی۔
ہر اختلاف نفرت نہیں ہوتا۔
اور کسی رشتے کا ختم ہو جانا کسی انسان کی زندگی ختم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔

یہ پہلو میرے لیے ناول کے سب سے مضبوط پیغامات میں سے ایک تھا، خاص طور پر آج کے اس معاشرے میں جہاں عورت کی مرضی، عزت اور زندگی کو اب بھی بہت سے سوالوں کا سامنا ہے۔

الطاف فاطمہ کی نثر میں ایک خاص ٹھہراؤ ہے۔ پہاڑ، برف، راستے، تنہائی اور دور ہوتے ہوئے گھر سب کچھ اتنا جاندار محسوس ہوتا ہے کہ بعض جگہوں پر یوں لگا جیسے میں کہانی پڑھ نہیں رہی بلکہ ان کرداروں کے ساتھ چل رہی ہوں۔

یہ ایک دھیمے انداز میں آگے بڑھنے والا ناول ہے، اس لیے اگر آپ تیز رفتار کہانیوں کے عادی ہیں تو ابتدا میں اس کی رفتار کچھ کم محسوس ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ کرداروں کے ساتھ وقت گزارنا اور ان کی زندگی کو سمجھنا پسند کرتے ہیں تو خواب گر آہستہ آہستہ اپنا اثر دکھاتا ہے۔

میرے لیے یہ ناول خوابوں کے بارے میں تھا۔

ان خوابوں کے بارے میں جو ہم اپنے لیے دیکھتے ہیں،
اور ان خوابوں کے بارے میں بھی جو ہم اپنے بچوں کے لیے دیکھتے ہیں۔

شاید ہر والدین کسی نہ کسی طرح خواب گر ہی ہوتے ہیں۔
اپنی کچھ خواہشیں ادھوری چھوڑ کر اگلی نسل کے لیے خواب جمع کرتے رہتے ہیں۔

خواب گر پڑھ کر مجھے یہی لگا کہ انسان ختم ہو جاتا ہے، مگر اس کے خواب نہیں۔
وہ کسی نہ کسی شکل میں آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ 🤍
Profile Image for E..
130 reviews
September 26, 2025
"خواب دیکھنے کے لیے انتظار کا حوصلہ بھی ہو تو تعبیر بھی مل ہی جاتی ہے۔"

ایک بار پھر سے کہوں گی کہ میرے خیال میں اگر آپ نے الطاف فاطمہ کو نہیں پڑھا تو آپ کا اردو ادب کا مطالعہ ادھورا ہے۔
تین سال پہلے جب میں نے پہلی بار "دستک نہ دو" پڑھی تو جانے کتنی سحرزدہ تھی میں کہ ان کی دوسری کوئی کتاب کو ہاتھ ہی نہ لگا سکی۔ پھر کچھ ہفتے پہلے جب اسے دوبارہ پڑھا تو فیصلہ کیا کہ اب ان کی باقی کتابیں بھی پڑھنی ہیں۔ سو "خواب گر" شروع کی اور یہ دو دنوں میں ہی ختم کر ڈالی، حالانکہ اسے آہستہ آہستہ پڑھنا چاہیے تھا۔ خیر لطف بے حد آیا پڑھنے کا کہ اسے چھوڑنے کا دل ہی نہ کیا۔ اس ناول نے تو مجھے پر کوئی الگ قسم کا جادو کیا ہے۔🩷

یہ ناول اتنا خوبصورت ہے کہ میرے لیے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ تین نسلوں پر پھیلی یہ کہانی تبت خورد کے علاقے بلتورو کے ایک بلتی خاندان کی زندگی، خواب، محنت، استقامت، ایمانداری اور صبر کو سمیٹے ہوئے ہے۔ خاندان کی کفالت کے لیے یہ بلتی نوجوان کم عمری ہی میں پہاڑوں سے اتر کر میدانی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، دن رات محنت کرتے ہیں اور رزق کماتے ہیں۔ میدانی علاقوں میں ان کے رشتوں کی بنیاد ہم وطنی اور بھائی چارے پر ہے۔
کہانی کا آغاز ابراہیم سے ہوتا ہے اور پھر اسے علی مردان اور اسماعیل خلیل اللہ آگے بڑھاتے ہیں۔ خواب گر اور خواب گیروں کی یہ داستان ایک کہانی بھی ہے اور جیسے ایک سفرنامہ بھی ہے۔ الطاف فاطمہ نے نہ صرف بلتورو بلکہ سکردو کے مناظر کو اس طرح بیان کیا ہے کہ قاری خود کو تھلےلا بستی اور پہاڑوں کے بیچ محسوس کرنے لگتا ہے۔
ناول کا ایک موضوع ہجرت بھی ہے مگر یہ صرف سکردو اور بلتستان کے لوگوں کے تناظر تک ہی محدود ہے۔ کہانی کا عہد قبل از تقسیم برصغیر کا ہے، اور کرداروں پر تقسیم کے بعد کے اثرات بھی دکھائے گئے ہیں۔
اس میں اتنا کچھ ہے کہ میں یہاں تو سب بتا ہی نہیں سکتی اور نہ ہی میں بتانا چاہتی ہوں۔ بس یہ کتاب پڑھ لیں🥹💕
Displaying 1 - 7 of 7 reviews