خواب گر جھیل سدپارہ کے اردگرد آباد حسین پہاڑی بستیوں اور ان کے سادہ و پُرخلوص باسیوں کے طرزِزندگی کی عکاسی کرتا ایک منفرد تجربہ ہے۔ کسی صورت سفرنامہ نہ ہونے کے باوجود، آپ دھند اور کہرے میں، برف زاروں میں دھنسے، ٹیڑھی میڑھی پہاڑی پگڈنڈیوں پر، الطاف فاطمہ کے قلم کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے پہلے بامِ دنیا یعنی بلتستان اور سکردو کی بلندیوں سے اتر کر لداخ اور سکم کے درّوں پر پیدل رواں،شملہ اور پھر میدانوں میں لاہور جیسے شہروں میں پہنچ کر رزق کی تلاش میں بھٹکتے ان بلتی مسافروں کی داستان جو سال ہا سال گھر کی شکل دیکھنے کو ترستے، اپنی زمین سے دُور لیکن اپنی جڑوں سے پیوست رہتے۔ ایک خواب کی تعبیر کے منتظر ”خواب گر“ کے رتجگوں کی کہانی۔
Altaf Fatima (born 1927 in Lucknow, British India) was an Urdu novelist, short-story writer, and teacher (specializing in Muhammad Iqbal). Her novel Dastak Na Do ("Do not knock") is regarded as one of the defining works in the Urdu language. An adaptation was presented on Pakistan television and an abridged translation was serialised by the Karachi monthly, Herald.
Altaf Fatima was the second of four children born in a Muslim household in Lucknow, India, to Mohammad Fazle Amin and his wife Mumtaz Jahan.
She was living in Lahore, Pakistan at the end of her life, to where she had retired as a professor of Urdu, but continued her literary work.
Altaf Fatima's novel Dastak Na Do has been translated into English by Rukhsana Ahmed.
خواب گر مسلسل، تقریباً ہر صفحہ پر ہر کردار ماضی اور حال میں بیک وقت جی رہا ہے۔ کہانی کا تسلسل ٹوٹتا جاتا ہے۔
This has been sitting in my TBR. In my attempt to clean the TBR shelf and bring it down to less than 50 books. I have read this one. It was a slow read. But beautifully written.
اکثر نام بڑے، درشن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ الطاف فاطمہ کے معاملے میں یہ بات الٹ ہے۔ یہاں کام بڑا ہے مگر نام گم ہے۔ اب تک الطاف فاطمہ کے دو ناولز پڑھے ہیں اور دونوں پسند آئے ہیں۔ ۔ ۔ مگر شاید یہ میرے ساتھ ہی ہے یا سب کے ساتھ کہ دونوں کے شروع میں یہ پوری کوشش کی گئی ہے کہ قاری اکتا کر کتاب بند کر دے اور آگے نہ پڑھے۔ اس کتاب کو بھی بمشکل گھسیٹ گھسوٹ کر آدھے تک لایا۔ ۔ ۔ ارادہ تھا کہ بس دو ستارے ہی دوں گا مگر جب کہانی 'فلو' میں آئی تو مہندی کی طرح آہستہ آہستہ رنگ چھوڑتی گئی۔ جب مکمل پڑھ لی تو ارادہ بدل گیا۔ دستک نہ دو کی طرح اس ناول میں بھی گھر، رشتے ناطے اور وطن کو اہمیت حاصل ہے
"خواب دیکھنے کے لیے انتظار کا حوصلہ بھی ہو تو تعبیر بھی مل ہی جاتی ہے۔"
ایک بار پھر سے کہوں گی کہ میرے خیال میں اگر آپ نے الطاف فاطمہ کو نہیں پڑھا تو آپ کا اردو ادب کا مطالعہ ادھورا ہے۔ تین سال پہلے جب میں نے پہلی بار "دستک نہ دو" پڑھی تو جانے کتنی سحرزدہ تھی میں کہ ان کی دوسری کوئی کتاب کو ہاتھ ہی نہ لگا سکی۔ پھر کچھ ہفتے پہلے جب اسے دوبارہ پڑھا تو فیصلہ کیا کہ اب ان کی باقی کتابیں بھی پڑھنی ہیں۔ سو "خواب گر" شروع کی اور یہ دو دنوں میں ہی ختم کر ڈالی، حالانکہ اسے آہستہ آہستہ پڑھنا چاہیے تھا۔ خیر لطف بے حد آیا پڑھنے کا کہ اسے چھوڑنے کا دل ہی نہ کیا۔ اس ناول نے تو مجھے پر کوئی الگ قسم کا جادو کیا ہے۔🩷
یہ ناول اتنا خوبصورت ہے کہ میرے لیے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ تین نسلوں پر پھیلی یہ کہانی تبت خورد کے علاقے بلتورو کے ایک بلتی خاندان کی زندگی، خواب، محنت، استقامت، ایمانداری اور صبر کو سمیٹے ہوئے ہے۔ خاندان کی کفالت کے لیے یہ بلتی نوجوان کم عمری ہی میں پہاڑوں سے اتر کر میدانی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، دن رات محنت کرتے ہیں اور رزق کماتے ہیں۔ میدانی علاقوں میں ان کے رشتوں کی بنیاد ہم وطنی اور بھائی چارے پر ہے۔ کہانی کا آغاز ابراہیم سے ہوتا ہے اور پھر اسے علی مردان اور اسماعیل خلیل اللہ آگے بڑھاتے ہیں۔ خواب گر اور خواب گیروں کی یہ داستان ایک کہانی بھی ہے اور جیسے ایک سفرنامہ بھی ہے۔ الطاف فاطمہ نے نہ صرف بلتورو بلکہ سکردو کے مناظر کو اس طرح بیان کیا ہے کہ قاری خود کو تھلےلا بستی اور پہاڑوں کے بیچ محسوس کرنے لگتا ہے۔ ناول کا ایک موضوع ہجرت بھی ہے مگر یہ صرف سکردو اور بلتستان کے لوگوں کے تناظر تک ہی محدود ہے۔ کہانی کا عہد قبل از تقسیم برصغیر کا ہے، اور کرداروں پر تقسیم کے بعد کے اثرات بھی دکھائے گئے ہیں۔ اس میں اتنا کچھ ہے کہ میں یہاں تو سب بتا ہی نہیں سکتی اور نہ ہی میں بتانا چاہتی ہوں۔ بس یہ کتاب پڑھ لیں🥹💕