مٹی کا دیا ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے ایک ایک لمحے کو محسوس کرکے زندگی بسر کی اور اپنےگردو پیش پھیلی ہوئی دنیا کو ایک تماشائی کی حیثیت سے نہیں، جزوِ تماشا بن کر دیکھا - مشفق خواجہ
ایسی ضخیم کتب اور وہ بھی آپ بیتی کا تجزیہ کرنا قدرے مشکل ہے۔ جہاں تک بات اُردو زبان کی ہے تو میں خود کو کہیں تیز رفتار تو کہیں سست روی کا شکار پاتا ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میں لفظوں کا پجاری ہوں۔ مجھے الفاظ سے عشق ہے گو کہ مجھے بھول جاتے۔ بات میرزا ادیب کی خود نوِشت کی ہو رہی ہے تو ابتدائی دو ، ڈھائی سو صفحات نے مجھے انتہا کی بوریت مہیا کی ہے۔ مگر ان صفحات میں مجھے اور میرزا ادیب صاحب کے جزبات میں ہم آہنگی کا احساس بار بار ہوا ہے ( نوٹ: میں خود اپنے آپ سے عموماً بور رہتا ہوں۔ ) ۔ ان صفحات میں جزبات کے پیرائے میں تکنیکی اور فنی قابلیت سر چڑھ کر بول رہی ہے۔
میرزا ادیب کے بارے میں مشفق خواجہ نے لکھا ہے کہ یہ اس شخص کی آپ بیتی ہے جس نے ایک ایک لمحے کو محسوس کر کے زندگی بسر کی ہے۔ اور اس کتاب میں قاری کو بار بار یہ احساس ہوتا رہتا ہے۔ باقی کے صفحات دلچسپی کا گراں سامان مہیا کر دیتے ہیں۔ کتاب کے آخری حصوں میں سے دو حصے خاکوں پر مشتمل ہیں۔ ان خاکوں کی انفرادیت شخصیات کا الگ پہلوؤں سے مرتب کیا جانا ہے۔
سادہ، شستہ، سلیس زبان پر مشتمل ایک محنتی، حساس اور نامور ادیب، میرزا ادیب کی خوبصورت داستانِِ زندگی!
The first and last shortstory by Mirza Adeeb, I had read by him in my childhood named "Kambal". The story dealt with hard times of an individual and deservedness of virtue. The unexpected help and unnecessarily judgment was the theme of story. However i didn't like the book as in my humble opinion writer himself was introvert. The autobiography is enjoyable if writer would explain his stupid acts with colorful era with his friends. While writer wrote with dry way. A less entertaining autobiography of Great short story writer in my humble opinion.
I went to buy this novel and storekeeper asked me to pay 3000 rupees for this one book. I was shocked and saw that book appearance. Book quality was appears so bad I was unable to understand why this book is so expensive. I left the book at the store. So I decided not to buy it anymore.