Nazir Ahmad Dehlvi, populary known as "Diptee" (Deputy) Nazir Ahmad (1831–1912), was an Urdu writer and social reformer from British India. He is considered one of the first novel writers of Urdu language.
مراۃ العروس پڑھنے کے بعد مجھے ڈپٹی نذیر احمد کی لکھی ہوئی نثر میں دلچسپی پیدا ہو گئی، پھر میں نے بالترتیب فسانہ مبتلا، توبۃ النصوح اور اب بنات النعش بھی پڑھ ڈالی ، جسے پڑھ کر کافی لطف اندوز ہوا ۔ نہ صرف لطف اندوز ہوا بلکہ حیران بھی ہوا کہ ڈپٹی صاحب نے اس ناول میں فقط خوبصورت کہانی ہی پیش نہیں کی بلکہ کتنے ہی فلسفے بھی زیر بحث لائے ہیں، وہ ڈائلاگز کی صورت میں کبھی دیہاتی اور شہری علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی سوچ میں فرق پر بات کرتے ہیں تو کبھی زمین اور کبھی کشش ثقل کو موضوع گفتگو بناتے ہیں ۔ اردو ادب کے شائقین جانتے ہونگے اردو کا پہلا ناول "مراۃ العروس" کو کہا جاتا ہے جو ڈپٹی نذیر احمد نے ہی لکھا تھا، اُس کے تین سال بعد "بنات النعش" بھی چھپا اور یہ اُسی ناول کا دوسرا حصہ ہے جس میں لڑکیوں کو گھرداری کے حوالے سے بہت اچھے انداز میں نصیحتیں کی گئی ہیں، میں نے تمام لڑکیوں کو وہ ناول بھی تجویز کیا تھا اور اب یہ ناول بھی تجویز کر رہا ہوں کیونکہ اس میں سوچنے سمجھنے کے کئی نئے پہلو ملتے ہیں ۔ یوں تو میرا دل تھا اس ناول کا اور ڈپٹی صاحب کے اسلوب کا تفصیلی تجزیہ کروں لیکن پھر سوچا میرا مقصد اپنے قارئین کو نئی کتاب سے متعارف کروانا ہے وہ کام ایک معمولی تبصرے سے بھی چل ہی جائے گا، تو کیونکر اتنی تگ و دو کی جائے؟ پھر بھی بتاتا چلوں کہ چونکہ یہ ناولز داستانوں کے زمانے کے ختم ہونے کے قریب قریب لکھے گئے تھے تو مصنف نے داستانوں کا طرز عمل اپنایا ہے، مثال کے طور پر ناول کا پلاٹ سادہ ہوتا ہے جس میں ایک کہانی آگے چلتی ہے، اگر ضمنی پلاٹس ہوں بھی تو وہ مرکزی پلاٹ کو مضبوط کرنے اور کہانی کو لنک کرنے کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ اِس ناول میں فقط واعظ کی خاطر نت نئی کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض جگہوں پر ڈائلاگز نہایت طویل ہیں اور ایک ہی فرد ایک ہی سانس میں پوری کہانی سنا ڈالتا ہے، جس سے تھوڑی بوریت بھی محسوس ہوتی ہے ۔ اسلوب اچھا ہے، خالص دہلوی زبان کا استعمال کیا گیا ہے، الفاظ و تراکیب اور محاورے پڑھ کر حسِ جمالیات کو تسکین ملتی ہے ۔ چونکہ یہ ناول کی ابتدائی شکل ہے، تو بعد میں لکھے جانے والے ناولوں سے قدرے مختلف ہے، لیکن اردو ادب میں ڈپٹی نذیر احمد کا ایک نام ہے، بطور اردو کا طالب علم یوں بھی اسے پڑھنا مجھے اپنا فرض معلوم ہوتا تھا۔ آپ بھی ضرور پڑھیے، لیکن اگر ممکن ہو تو اس سے پہلے "مراۃ العروس" پڑھ لیجیے گا، بصورت دیگر یہ بھی اپنی جگہ مکمل ہے۔