... well it was a major disappointment, I really do not know what was the message writer wants to convey, the story line is very thin which was wrapped in lengthy philosophical discourses among different characters even these are irritating and unrealistic. Each and every character (mostly women) is in dire strait; exploited,abused and mutilated by the society and to top it all none got any reprieve and had a tragic end, I consider this whole piece of work as a depressing and boring account of self pity, nothing more.
One of the best books by Jamilah.This book was awarded Adamji prize, no doubt it deserves great admiration.It explains complexity of human psychology (particularly of women) in such a subtle way that one gets completely absorbed in it.It simply squeezed emotions out of rockS.
"کنول مجھ سے کہتی تھی تم لوگ عورت کو اس لیے ہی کیوں دیکھتے ہو کہ وہ مرد کے لیے زندہ ہے۔ اس کی اپنی الگ کوئی زندگی کیوں نہیں ہے۔ اس کا اپنا ایک الگ وجود ہے۔ تم اس کو دیکھو گے تو بیٹی کی حیثیت سے بہن بنا کر بیوی اور ماں کی طرح ۔ کیا عورت ان حالتوں کے علاوہ ایک عورت نہیں ہے۔ اگر تم ایک مرد بن کر زندہ رہتے اور ترقی کرتے ہو تو کیا عورت بہن بیوی بیٹی کے رشتوں سے بلند ہو کر نہیں رہ سکتی۔ تم نے اپنی عقل کے جو پیمانے بنا لیے ہیں انہیں عورت کی شرافت، اس کی عزت اور اس کی ہستی کے ناپنے کے لیے کیوں مقرر کرتے ہو؟"
جمیلہ ہاشمی کے ناول "تلاشِ بہاراں" کا بنیادی موضوع عورت ہے۔ یہ ناول ہندوستانی معاشرے میں عورت کی حیثیت اور اس پر ہونے والے ظلم و جبر کی کہانی ہے جو صنفی امتیاز اور معاشرتی پاںندیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ناول کا مرکزی کردار کنول کماری ٹھاکر ہے جو ایک مضبوط، باشعور اور باوقار عورت ہے۔ وہ خاموشی سے ظلم سہنے کے بجائے سوال اٹھاتی ہے، احتجاج کرتی ہے اور سماج کی غلط روایات کو چیلنج کرتی ہے۔ وہ مرد کے برابر ہی نہیں بلکہ کئی معاملات میں اس سے زیادہ مضبوط ہے۔ اسی لیے وہ ناول کے کرداروں کے لیے ہیروئن کی بجائے ایک دیوی کا درجہ رکھتی ہے۔ ناول کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ نریٹر (یعنی داستان گو) مرد ہے اور کہانی اس کی نظر سے بیان کی گئی ہے جو قاری کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ عورتوں اور اس معاشرے میں درپیش ان کے مسائل کو سماج کے وسیع تناظر میں دیکھے۔ ناول میں مصنفہ نے کسی ایک نظریے کو مسلط نہیں کیا بلکہ کئی مؤقف سامنے رکھ کر فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا ہے۔ ناول کا آخری حصہ تقسیمِ ہند کے پس منظر میں لکھا گیا ہے، جہاں مذہبی جنون اور فسادات نے انسانیت کا روند ڈالا۔ صدیوں سے ساتھ رہنے والے ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے دشمن بن گئے اور ان کے اس جنون اور نفرت کا سب سے بڑا نشانہ عورتیں بنیں۔ گھروں میں موجود عورتیں تک محفوظ نہ رہیں۔ کنول کماری ٹھاکر کے کالج پر بھی حملہ کیا گیا مگر کنول نے مزہب کی تفریق کیے بغیر لڑکیوں کی حفاظت کی اور اس حفاظت کے نتیجے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اگر پلاٹ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ناول روایتی کہانی نہیں مگر مصنفہ نے اپنے اسلوب، منظر نگاری، لفظوں کے انتخاب اور اندازِ بیان سے اسے اس قدر دلکش بنا دیا ہے کہ طوالت کے باوجود قاری ایک لمحے کو بھی بور نہیں ہوتا۔ یہ ناول مجھے بے حد پسند آیا ❤️
It's a nice novel, I liked the story plot. One thing I want to share with people that Sang e Meel books are getting expensive in very short time . I think I have started hating this publisher. 300 pages novel price is around 900 to 1200